ٹرمپ اور شی جن پنگ کی واشنگٹن میں اہم ملاقات

0
5

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی واشنگٹن میں ہونیوالی ملاقات نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دنیا کی دو بڑی معاشی اور فوجی طاقتوں کے سربراہوں کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اجارہ داری، تائیوان، جدید ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور ایران سمیت متعدد معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ اس ملاقات نے فوری کشیدگی کم کرنے کا راستہ ضرور کھولا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی رقابت ختم نہیں ہوئی۔ اس اہم پیش رفت کا سب سے فوری عالمی اثر تجارتی جنگ کے خطرے میں عارضی کمی کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس کے تحت واشنگٹن اور بیجنگ نے تجارتی جنگ بندی میں توسیع کی اور نئی محصولات کے ساتھ ساتھ بعض تجارتی پابندیوں کے فوری اضافے کا خطرہ بھی فی الحال ٹل گیا ہے۔ دونوں ممالک نے تقریباً 30، 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس مصنوعات کے لیے محصولات میں کمی کی فہرستیں جاری کی ہیں، لیکن سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر حساس شعبوں پر بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
اس پیش رفت کا براہِ راست اثر عالمی سپلائی چین پر پڑتا نظر آتا ہے۔ اگر امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں دوبارہ شدت آتی تو الیکٹرانکس، صنعتی مصنوعات، ٹیکنالوجی اور دیگر اہم اشیا کی قیمتوں اور دستیابی پر دباؤ مسلسل بڑھ سکتا تھا، تاہم موجودہ عارضی جنگ بندی نے کم از کم قلیل مدت کے لیے ایسے خدشات کو محدود کر دیا ہے۔ البتہ مستقبل کا استحکام تمام تر اس بات پر منحصر ہوگا کہ دونوں ممالک محصولات، چینی زرعی خریداری، نایاب معدنیات اور ٹیکنالوجی پابندیوں پر کیا حتمی معاہدہ طے کرتے ہیں۔ اس ضمن میں دنیا کے لیے دوسرا اہم ترین پہلو نایاب زمینی معدنیات ہیں جو کہ موبائل فونز، جدید الیکٹرانکس، برقی گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی کے آلات اور دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ چونکہ چین عالمی سطح پر ان معدنیات کی پروسیسنگ میں انتہائی مرکزی مقام رکھتا ہے، اس لیے بیجنگ کی جانب سے برآمدی پابندیوں یا سپلائی میں ذرا سی بھی کمی عالمی صنعتوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اس معاملے پر قائم ہونیوالا عارضی استحکام عالمی صنعت کے لیے نہایت اہم ہے، اگرچہ امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک اب اپنی سپلائی چین کے لیے چین پر انحصار مسلسل کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
جہاں تک عالمی سلامتی کا تعلق ہے، تائیوان کا معاملہ ہمیشہ سے سب سے حساس موضوعات میں شامل رہا ہے۔ اس اجلاس میں شی جن پنگ نے امریکہ پر واضح زور دیا کہ وہ تائیوان کی آزادی کی بالکل حمایت نہ کرے، جبکہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اس نازک مسئلے پر بنیادی اختلاف پہلے کی طرح برقرار ہے۔ ملاقات کے دوران کوئی ایسا جامع معاہدہ سامنے نہیں آ سکا جو تائیوان کے متعلق دونوں ممالک کے بنیادی اور روایتی موقف کو تبدیل کر سکے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر مستقبل میں تائیوان کے گرد کوئی بھی فوجی یا سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے تو امریکہ اور چین کے تعلقات ایک بار پھر تیزی سے بگڑ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملاقات کا ایک اور اہم ترین عالمی پہلو مصنوعی ذہانت ہے۔ امریکہ اور چین دونوں ہی اس میدا ن کی سب سے بڑی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان اس شعبے میں مقابلہ بھی انتہائی شدید ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق باقاعدہ مکالمے کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو جدید ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال اور ممکنہ خطرات کے تدراک کے لیے عالمی تعاون کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے، اگرچہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ تعاون عملی میدان میں کس حد تک آگے بڑھ پائے گا۔
علاوہ ازیں روس، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں بھی اس ملاقات کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ چین کے ایران اور روس دونوں کیساتھ گہرے تعلقات قائم ہیں، جبکہ امریکہ ان تمام معاملات پر ایک الگ اور سخت پالیسی رکھتا ہے، چنانچہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بہتر رابطے عالمی تنازعات کے بہتر انتظام میں مدد فراہم کر سکتے ہیں، لیکن دونوں طاقتوں کے بنیادی مفادات میں واضح فرق کی وجہ سے فوری طور پر کسی بڑے عالمی تنازع کے حل ہونے کی توقع رکھنا قبل از وقت ہوگا۔ اسی طرح ایشیا کے دیگر تمام ممالک بھی اس اہم ملاقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، فلپائن اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے لیے امریکہ اور چین کے تعلقات میں استحکام معاشی اور سکیورٹی دونوں لحاظ سے بے حد اہم ثابت ہوتا ہے۔ ان ممالک کو ایک طرف چین کے ساتھ تجارت اور معاشی روابط برقرار رکھنا ضروری ہے تو دوسری جانب ان میں سے کئی ممالک امریکہ کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی شراکت داری بھی رکھتے ہیں، لہٰذا واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی یا ناگہانی بہتری دونوں ہی صورتوں میں ایشیائی ممالک کی خارجہ پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اس اعلیٰ سطحی ملاقات نے دنیا کو فوری طور پر ایک تباہ کن تجارتی جنگ سے کچھ مہلت ضرور فراہم کی ہے، تاہم اسے امریکہ اور چین کی طویل مدتی رقابت کے مکمل خاتمے کے طور پر دیکھنا نامناسب ہوگا۔ اس ملاقات نے باہمی مذاکرات کے نئے دروازے ضرور کھولے ہیں، مگر تائیوان، جدید ٹیکنالوجی، نایاب معدنیات اور عالمی اثر و رسوخ جیسے بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ آئندہ چند ماہ کے دوران ہونیوالی مزید اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور ان معاہدوں پر عمل درآمد ہی واقعی یہ ثابت کرے گا کہ واشنگٹن کی حالیہ سفارت کاری عالمی استحکام کی طرف کوئی مستقل قدم بنتی ہے یا یہ دونوں عظیم طاقتوں کے درمیان محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here