پاکستان ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب اپنا لانگ مارچ جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا اب 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے مطابق اس فیصلے کا مقصد سیاسی دبائو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو مذاکرات اور مطالبات پر غور کرنے کا وقت چُنا ہے۔ دوسری جانب وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے احتجاج سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی کی طرف آنیو الے راستوں پر بڑے پیمانے پر سیکیورٹی انتظامات کیے، کینٹینر کے ذریعے راستوں کی بندش، پولیس اور رینجرز کی تعیناتی اور ریڈ زون کی سیکیورٹی نے شہری زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ تاہم مارچ کی تاریخ تبدیل ہونے کے بعد حکومت نے بعض اہم راستے دوبارہ کھولنا شروع کر دیئے ہیں جن میں اسلام آباد، پشاور، موٹر وے بھی شامل ہے۔ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے کیا حکومت احتجاج کرنے کیلئے مزید پابندیاں عائد کریگی یا سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کریگی۔ حکومت کیلئے امن و امان برقرار رکھنا بلا شبہ بنیادی ذمہ داری ہے اگر کسی احتجاج میں سرکاری املاک، شہریوں یا پولیس اہلکاروں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو تو ریاست کے پاس قانونی اور انتظامی اقدامات کا اختیار موجود ہے، حالیہ دنوں میں اسلام آباد کے سیف سٹی کیمروں اور نگرانی کے نظام کے تحفظ کیلئے ایک نیا آرڈیننس بھی منظور کیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی صورتوں میں نقصان پر دو ملین روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مزید سڑکیں بند کرنا اور دارالحکومت کو مزید محدود کرنا سیاسی مسئلے کا مستقل حل ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کوئی سیاسی جماعت یا سرکاری عہدیدار احتجاج کے نام پر سڑکیں اور عوامی مقامات بند نہیں کر سکتا اور حکومت کو شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے بچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ لہٰذا حکومت کے سامنے دو اہم تقاضے ہیں ایک طرف امن و امان اور ریاستی تنصیبات کا تحفظ اور دوسری طرف شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کاروبار اور روزمرہ زندگی کا تسلسل دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا موجودہ حالات میں سب سے اہم انتظامی چیلنج ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق راستوں کی بندش سے ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں، مارکیٹوں اور یومیہ اُجرت پر کام کرنے والوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ حکومت کیلئے بہتر حکتم عملی یہ ہو سکتی ہے کہ نئی پابندیوں کی آخری آپشن کے طور پر رکھا جائے جبکہ سیاسی رابطے اور مذاکرات کو اولین ترجیح دی جائے احتجاج کرنیوالوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں اور کسی بڑے تصادم سے گریز کریں۔ 4 اکتوبر اب ایک اہم سیاسی تاریخ بن چکی ہے حکومت کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ انتظامی اقدامات کیساتھ ساتھ سیاسی راستہ بھی کھولے اگر مذاکرات کے ذریعے احتجاج کے بنیادی مطالبات، قانونی طریقہ کار اور شہری آزادیوں پر قابل عمل اتفاق پیدا کیا جا سکے تو اس سے اسلام آباد کو بار بار بند کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ احتجاج ہوتا ہے یا نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ریاست اور سیاسی جماعتیں اختلاف کو کس حد تک آئینی، پُر امن اور جمہوری طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت دکھاتی ہیں۔ دارالحکومت کو مسلسل کنٹینروں سے بند رکھنا وقتی انتظام تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی اختلاف کا مستقل حل سیاسی مکالمے، قانون کی بالادستی اور باہمی ذمہ داری ہی سے نکل سکتا ہے۔ ہٹ دھرمی یا سختی سے اس کا حل نہیں نکلے گا سیاسی جماعتوں کا حق ہے کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں پُر امن طریقے پر اگر کوئی توڑ پھوڑ ہو تو پھر حکومت کو بھی اختیار ہے کہ وہ اپنا حق استعمال کرے، آخری حل مذاکرات ہی ہیں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ان کے مطالبات سنیں اور کچھ لو اور کچھ دو کے اصولوں پر فیصلہ کیا جائے اپوزیشن کا سب سے بڑا مطالبہ عمران کان کی رہائی ہے اگر وہ منظور کر لیا جائے تو پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔ مگر حکومت تو مجبور ہے یہ فیصلہ تو تیسری طاقت ہی کریگی، خدا جانے کب تک یہ تیسری طاقت ہمارے سروں پر منڈلاتی رہے گی ایک دن تو سورج نکلے گا اور دنیا روشن ہو جائیگی۔
٭٭٭











