ہزار جزیرے دیکھ کر پاکستان کیوں یاد آیا؟

0
7

کچھ مناظر انسان کو پہلی نظر میں اپنا اسیر بنا لیتے ہیں۔ وہ آنکھوں سے گزر کر دل میں اترتے ہیں اور پھر مدتوں یاد کے پانیوں پر لہروں کی طرح زندہ رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہم نے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان واقع معروف سیاحتی خطے ہزار جزائر، اونٹاریو، کینیڈا کا دوبارہ سفر کیا۔ پچھلی بار جب میں نے دریائے سینٹ لارنس کے پھیلے ہوئے پانیوں میں بکھرے سبز جزیروں، چھوٹے بڑے گھروں، درختوں، کشتیوں اور حسین مناظر کو دیکھا تو دل نے چاہا کہ اس سحر انگیز فضا میں کچھ دن دوبارہ سکون سے گزارے جائیں۔ لہذا اس مرتبہ بھی میرے شوہر اور ہمسفر نے ہوٹل کی بالائی منزل کا وہ کمرہ بک کروایا جس کی وسیع کھڑکی اور کشادہ بالکونی سے دریا اور چھوٹے بڑے جزیرے صاف دکھائی دیتے تھے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی جب طلوعِ آفتاب کی سنہری روشنی نیلگوں پانی پر بکھرتی، سرسبز جزیروں پر بنے گھر، جدید طرز کی کشتیاں، لہروں اور پرندوں کی آوازیں محسوس ہوتیں، تو بے اختیار زبان سے نکلتا کہ سبحان اللہ، کیا شان ہے تیرے کارخان قدرت کی! یوں لگتا جیسے قدرت نے اپنا ایک شاہکار اٹھا کر ہماری کھڑکی کے فریم میں سجا دیا ہو۔
دریائے سینٹ لارنس کا یہ خطہ کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو اور امریکہ کی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے۔ اسے ہزار جزیروں کا علاقہ کہا جاتا ہے، مگر یہاں حقیقتاً 1,864 جزیرے موجود ہیں۔ کشتیوں کا منظم سفر، پارک، پیدل راستے، صاف ستھرا ماحول، معلوماتی مراکز، مقامی اور بڑے ریستوران، نیز دیگر رہائشی سہولتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاحت صرف فطری حسن کا نام نہیں، بلکہ اس حسن کو حفاظت، منصوبہ بندی اور سہولت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا نام ہے۔
ہر سال 27 ستمبر کا عالمی یومِ سیاحت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سفر صرف تفریح یا تصویروں کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کو قدرت سے جوڑتا ہے، مختلف معاشروں کو قریب لاتا ہے اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار و کاروبار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ عالمی سفر و سیاحت نے 2025 میں 11.6 ٹریلین ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا کی اور 366 ملین ملازمتوں کو سہارا دیا۔ 2026 کا موضوع ڈیجیٹل ایجنڈا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیاحت کی نئی تشکیل ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو صرف تشہیر اور بکنگ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سیاحوں کی حفاظت، راستوں اور موسم کی بروقت اطلاع، درست رہنمائی، ماحول کے تحفظ اور مقامی کاروباروں کی ترقی کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔
ہزار جزیروں کے پانیوں کو دیکھتے ہوئے اپنا وطن پاکستان بار بار یاد آیا۔ ہمارے پاس ہنزہ، اسکردو، سوات، چترال، ناران، کاغان، نیلم اور دیوسائی کی وادیاں ہیں۔ وہاں بلند و بالا پہاڑ، نیلگوں جھیلیں، دریا، ساحل، صحرا، قدیم تہذیبیں، تاریخی شہر اور بے مثال مقامی لوگوں کی مہمان نوازی موجود ہے۔ ہمارے ہاں کمی قدرتی حسن کی نہیں، بلکہ اسے محفوظ، منظم اور قابلِ رسائی بنانے کی ہے۔
اگر پاکستان میں صاف ماحول، محفوظ سڑکیں، مناسب رہائش، تربیت یافتہ رہنما، درست ڈیجیٹل معلومات، ہنگامی سہولتیں اور مقامی آبادی کی شراکت یقینی بنائی جائے تو سیاحت قومی ترقی کا مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر جھیلیں آلودہ اور پہاڑ کچرے سے بھرے رہیں تو یہ قدرتی خزانہ آہستہ آہستہ بے بس ہو جائے گا۔ عالمی یومِ سیاحت پر ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے پاکستان کے حسن کو صرف تصویروں اور نعروں تک محدود رکھیں گے، یا اسے ذمہ داری، جدید منصوبہ بندی اور قومی عزم کے ساتھ دنیا کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار منزل بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here