واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کے دوران وائٹ ہاؤس کے مشہور پریس بریفنگ روم کو ختم کر کے اس کی جگہ تاریخی سوئمنگ پول دوبارہ قائم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اسی سالہ صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تقابلی تصویر شیئر کی جس میں پریس روم کی موجودہ حالت اور ماضی کے تاریخی تالاب کی تصویر یکجا دکھائی گئی۔ اس پوسٹ میں موجودہ پریس ہال کو جھوٹی خبروں کا مرکز قرار دیا گیا۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں کچھ معروف خبر رساں اداروں پر وائٹ ہاؤس میں داخلے کی پابندی عائد کی گئی تھی تاہم عدالت نے بعد میں ان اداروں کی رسائی دوبارہ بحال کر دی۔ وائٹ ہاؤس کا یہ تاریخی تالاب سب سے پہلے 1933 میں سابق امریکی صدر کے دور میں علاج اور ورزش کی خاطر تعمیر کیا گیا تھا۔ بعد میں 1970 میں اس وقت کے صدر نے صحافیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جگہ دینے کے لیے تالاب پر فرش ڈال کر موجودہ پریس روم قائم کر دیا تھا۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق یہ تمام تر تنازعات اس وقت شدت اختیار کر رہے ہیں جب سے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے خاندانی ذمہ داریوں کی بنا پر اپنا عہدہ چھوڑا ہے۔ ترجمان کی رخصتی کے بعد سے یہ اہم ترین انتظامی عہدہ خالی ہے اور پریس دفتر بغیر کسی مستقل سربراہ کے کام کر رہا ہے۔ تاہم سرکاری حکام نے ذرائع ابلاغ پر پابندی کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس تک رسائی ایک مراعاتی سہولت ہے اور صدر کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ صحافت کا احتساب کریں۔











