واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں اب صرف 4 ہفتے باقی رہ گئے ہیں جس کے باعث ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں سیاسی اکثریت حاصل کرنے کی جنگ انتہائی حساس اور غیر یقینی صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ ایوانِ بالا یعنی سینیٹ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کو نومبر کے ان انتخابات میں مزید 4 نشستیں جیتنا ہوں گی۔ اس انتخابی دوڑ میں 10 ریاستیں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہیں جہاں پارٹیوں کی کامیابی یا ناکامی سے اقتدار کا توازن تبدیل ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔شمالی کیرولائنا اس سیاسی معرکے میں سب سے پیش پیش ہے جہاں سابق گورنر رائے کوپر اور مائیکل واٹلی کے درمیان انتہائی سخت مقابلے کی توقع ہے۔ اوہائیو میں بھی صورتحال یکساں دلچسپ ہے جہاں سابق سینیٹر شرڈ براؤن اور موجودہ سینیٹر جان ہیوسٹ آمنے سامنے ہیں۔ اسی طرح الاسکا میں میری پلٹولا اور ڈین سلیوان کے درمیان انتخابی مہم شدت اختیار کر چکی ہے جبکہ مین میں سوزن کولنز کو ٹرائے جیکسن کی جانب سے شدید مقاومت کا سامنا ہے۔ٹیکساس مشی گن اور آئیووا جیسی اہم ریاستوں میں بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں جہاں بالترتیب جیمز ٹلاوریکو عبدالسیّد اور جوش ٹورکس اپنی جماعتوں کے موقف کو مظبوطی سے پیش کر رہے ہیں۔ نیو ہیمپشائر کینساس اور جارجیا کے انتخابی میدانوں میں بھی سخت مقابلے متوقع ہیں جہاں بالخصوص جارجیا میں جان اوسوف کو اپنے حریف پر برتری حاصل بتائی جا رہی ہے۔ اگر ڈیموکریٹس ان تمام اہم میدانوں میں کامیابی حاصل کر کے 4 مزید نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ کی قانون سازی کے عمل اور حکومتی ترجیحات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔









