پاکستان نے بھارت کے پُرخچے اُڑا دیئے!!!

0
73
حیدر علی
حیدر علی

پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا موقع آیا جب ایک سمیر منہاس جیسا کھلاڑی نے نہ خود ایک غیر متزلزل کھیل کر اپنی مخالف ٹیم بھارت کے کھلاڑیوں کو حیران کردیا بلکہ اُس نے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کی ہمت میں بھی چار چاند لگا دیئے، وہ یہ یقین کرنے لگے کہ اگر اُن کی ٹیم میں سمیر منہاس جیسے بیٹسمین ہوگا تو وہ کبھی بھی شکست نہیں کھاسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چند لمحہ بعد ہی جب سمیر منہاس اپنے کھیل کے درمیان تھا بھارتی ٹیم کے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ اُن کے کوچز اور منیجر کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے، سمیر منہاس نے جب ہاف سینچری بنائی تو پاکستانیوں کی امیدیں مائع تھیں ، لیکن جب اُس نے سینچری بنالی تواُنکی اُمیدیں پنجاب ایکسپریس بن گئیں، اور جب اُس نے ایک سو پچاس رنز کو عبور کرلیا تو اُن کی امیدیں کوہ ہمالہ کی جیسی ایستادہ ہوگئیں،سمیر نے یہ مثال قائم کی کہ اُن میں سے کوئی بھی کھلاڑی رن آؤٹ یا ایل بی ڈبلیو نہیں ہوگا، اِسلئے راقم الحروف کیلئے یہ ایک پہلا موقع ہے جب میں نے کسی میچ میں پاکستان کے کسی کھلاڑی کو رن آؤٹ یا ایل بی ڈبلیو ہوتے ہوے نہیں دیکھا، بھارت کے اچھے کھلاڑی ایرون جارج یا آیوش مہترے آؤٹ ہوئے تو انڈین کوچز کے مطالبے پر پاکستانی بولروں کی خامیاں تلاش کی جانے لگیں لیکن پاکستان ٹیم کے کھلاڑی کا کھیل صاف و شفاف تھا، نیویارک کے وقت کے مطابق کھیل رات کے بارہ بجے شروع ہوا ، اور ابتدا سے لے کر آخر تک پی ٹی وی کے کمرشل کی بھر مار رہی. چائے کا کمرشل ہو تو تپال اور وائیٹل چائے اور اگر بسکٹ کا ہو تو سُپر اور ٹک بسکٹ کے اشتہارات آپ کیلئے حاضر تھے،حالات کے دوسرے رخ پر میں اِس نتیجے پر پہنچ گیا ہوں کہ پاکستان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کو وٹامن لینے کی ضرورت ہے ، کون سا وٹامن اُنہیں لینا چاہئے یہ تو میں نہیں بتاسکتا، کیونکہ میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہوں البتہ اُن کی بے بسی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی، اب بھارت کے ساتھ انڈر 19-کے میچ کی ہی مثال لے لیجئے جس میں پاکستان کی ٹیم کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،وہ بھارت سے 90 رنز سے شکست کھا گئے تھے۔ بھارت کی ٹیم کے ایرے غیرے بچے آکر اُن کی بائولنگ کو اِس طرح پیٹ جیسے کرکٹ کا میچ نہیں دھوبی کا گھاٹ ہو، میچ نیویارک کے وقت کے مطابق رات کے بارہ بجے شروع ہونا تھا لیکن بارش کی وجہ کر ایک گھنٹے بعد شروع ہوا، یہ بھی عجب معمہ ہے کہ جب بھی بھارت اور پاکستان کا میچ ہوتا ہے ، بارش شروع ہوجاتی ہے،بہتر ہے کہ میچ دبئی کے بجائے بلوچستان میں ہو، جہاں بارش کیلئے لوگ ہمیشہ دعائیں مانگتے ہیں، وہ دعائیں مانگتے رہیں اور کھیل بھی ہوتا رہے تو پھر بارش لازمی ہوگی،بہرکیف پاکستان کی ٹیم کے کھلاڑی کی بے بسی کیا ہوتی ہے، یہی ہوتی ہے کہ وہ بار بار کیچ مِس کر دیتے ہیں، وہ بال سے ایک گز کے فاصلے پر ہی لمبا لیٹ ہوجاتے ہیں ۔ بال اور اُن کے درمیان ہمیشہ ایک گز کا فاصلہ ہوتا ہے، آخر اِس فاصلے کو کون دور کرسکتا ہے، انڈر – 19 کی ٹیم کے کوچ کو تو ٹی وی پر دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ کوچ کم پٹواری زیادہ ہو. ٹھیک ہے، میں کوچ کو نوے رنز کی شکست کھانے کی وجہ کر فائر کر دینا چاہیے کی تائید نہیں کرسکتا ، کیونکہ یہ میرے اصول کے خلاف ہے لیکن میں یہ ضرور اِس بات کی حمایت کروں گا کہ جب پاکستان قومی ٹیم کی تربیت کیلئے انگلینڈ سے گورے کو مدعو کیا جاتا ہے تو کیوں نہیں انڈر- 19کیلئے بھی کوچز انگلینڈ سے بلائے جاسکتے ہیں۔انڈر 19کرکٹرزکل کے ہمارے قومی ٹیم کے مستقبل ہیں . اگر ہم اُنہیں آج اچھی تربیت نہیں دے سکتے تو کل ہم اُن سے یہ توقع نہیں کرسکتے ہیں کہ وہ شاندار کھیل کا مظاہرہ کرینگے اور میچ جیت کر قوم کو سرخرو کرینگے،پاکستان ٹیم کی فلڈنگ بھی ماشااﷲ ہوتی ہے،بال قریب سے گذر جاتی ہے ، لیکن اُنہیں یہ توقع نہیں ہوتی کہ وہ تیزی سے اُسے پکڑنے کو کوشش کریں، وہ اِس انتظار میں رہتے ہیں کہ بال اُن کے قریب آئے ، بلکہ اُن کے ہاتھ میں آکر آئس کریم کی طرح چپک جائے۔ تیز رفتار بال پکڑنے سے اُنگلی نہیں ٹوٹتی ہے، میں بھی کرکٹ کھیل چکا ہوں البتہ آئندہ کے گیم کیلئے نوکری پکی ہوجاتی ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ گرل فرینڈ ہر جگہ یہ چرچا کرتی رہتی ہے کہ ” میرا سوئٹ ہارٹ بندر کی طرح اچک کر بال پکڑتا ہے، اِسی لئے تو میں اُس کے لبوں کو چوسنا چاہتی ہوں”
بھارت کے ساتھ میچ میں پاکستان کے اوپنر بولر علی رضا تھے جو مستقلا”بولنگ کرتے رہے ، تاہم پورے کھیل میں کوئی بھی وکٹ لینے میں ناکامیاب رہے، اِس نکتہ پر کوچنگ اور پاکستان ٹیم کے ارباب حل و عقد کا یہ فرض تھا کہ وہ بولنگ کی ضمن میں فوری طور پر کوئی فیصلہ کریں لیکن اُن میں اِس کی کوئی ہمت نہ ہوسکی ، یہ اُن کی نا اہلیت یا نہیں تو خوف کی علامت ہے۔ٹھیک ہے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کبھی جیت نہیں سکتی ہے یا یہ کہیے کہ اُس کی قسمت میں جیت کی کوئی لکیر ہی نہیں ہے لیکن کم ازکم ٹیم کے کھلاڑیوں کواپنا لباس ، چال ڈھال کو درست رکھنا چاہئے، یہ کیا کہ سرکے بال مجنوں کی طرح بڑھے ہوں ، پتلون پاجامہ معلوم ہو رہا ہو ، پتلون کی رنگ سے ایسا معلوم ہورہا ہو جیسے روز اول سے یعنی پتلون خریدنے کے وقت سے پانچ سال تک کبھی اُس کی لانڈری نہ کی گئی ہو،اِس طرح کی شکل و صورت سے یا چال ڈھال سے آپ کس طرح ناظرین کو متاثر کر سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here