”مراہقہ” نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک مغربی اصطلاح!اسلامی تاریخ اس تصور کو رد کرتی ہے کہ کم عمری نااہلی یا ناپختگی کی علامت ہوتی ہے۔ اُمتِ مسلمہ کی تاریخ ایسے نوجوانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے نوعمری میں وہ کارنامے انجام دیے جنہوں نے دنیا کا رخ بدل دیا۔ ذیل میں چند عظیم مثالیں ملاحظہ ہوں: 1- ارقم بن ابی الارقم (عمر: 16 سال)آپ نے ابتدائی دورِ اسلام میں ایمان قبول کیا اور مکہ مکرمہ میں اپنا گھر رسول اللہ ۖ کی خفیہ دعوتِ اسلام کا مرکز بنا دیا۔ یہ گھر تقریبا 13 برس تک دعوتِ اسلامی کا سب سے محفوظ اور مثر مرکز رہا۔ اسی گھر میں بڑے بڑے صحابہ نے اسلام قبول کیا۔ 2- طلحہ بن عبیداللہ (عمر: 16سال)آپ عشر مبشرہ میں شامل عظیم صحابی ہیں۔ غزو احد 3(ھ )میں رسول اللہ ۖ کی حفاظت کے لیے اپنا جسم ڈھال بنا لیا، یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ مفلوج ہو گیا۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا: “جس نے زندہ شہید کو دیکھنا ہو، وہ طلحہ کو دیکھ لے۔” 3- زبیر بن العوام (عمر: 15 سال)آپ اسلام کے پہلے تلوار اٹھانے والے مجاہد ہیں۔ رسول اللہ ۖ کے پھوپھی زاد بھائی اور انتہائی جری صحابی تھے۔ بدر، احد، خندق سمیت تمام معرکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 4- معاذ بن عمرو بن الجموح (13 سال) اور معوذ بن عفرا14 سال) غزو بدر (2ھ / 624) میں ان دو کم عمر نوجوانوں نے مشرکین کے سب سے بڑے سردار ابو جہل کو قتل کیا، جس سے کفار کے حوصلے ٹوٹ گئے اور مسلمانوں کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی۔ 5- زید بن ثابت (عمر: 13 سال)آپ رسول اللہ ۖ کے کاتبِ وحی، مترجم اور کئی زبانوں پر عبور رکھنے والے عظیم ذہن کے مالک تھے۔ خلافتِ ابوبکر کے دور میں قرآنِ کریم کو یکجا کرنے کے تاریخی منصوبے کے سربراہ مقرر ہوئے۔ 6- محمد بن قاسم (عمر: 17 سال) 92ھ / 711 میں سندھ کے فاتح بنے۔ راجہ داہر کو شکست دے کر برصغیر میں اسلام کی بنیاد رکھی۔ عدل، شریعت اور حسنِ سلوک کے باعث آج بھی تاریخ میں روشن نام ہیں۔ 7- سعد بن ابی وقاص(عمر: 17 سال)اسلام کی خاطر سب سے پہلا تیر چلانے کا اعزاز حاصل کیا۔ بعد ازاں معرکہ قادسیہ 15ھ / 636) کے عظیم سپہ سالار بنے جس سے سلطنتِ فارس کا خاتمہ ہوا۔ 8- اسامہ بن زید (عمر: 18 سال)رسول اللہ ۖ نے اپنی وفات سے قبل انہیں رومی سلطنت کے مقابل لشکر کا سالار مقرر فرمایا، حالانکہ لشکر میں بڑے بڑے صحابہ موجود تھے۔ یہ نوجوان قیادت پر نبی ۖ کے اعتماد کی عظیم مثال ہے۔ 9- ہارون الرشید (عمر: 15 سال) عباسی خلافت کے سنہری دور کی نمایاں شخصیت۔ کم عمری میں فوجی مہمات کی قیادت کی اور 20 سال کی عمر میں خلیفہ بنے۔ علم، عدل اور جہاد میں مثالی مقام رکھتے تھے۔ 10- سلطان محمد فاتح (عمر: 14 سال)14 برس میں تخت نشین ہوئے، اور 21 سال (857ھ / 1453) میں قسطنطنیہ فتح کر کے رسول اللہ ۖ کی بشارت کو پورا کیا۔ یہ فتح تاریخِ انسانی کا عظیم موڑ ثابت ہوئی۔ یہ تو چند مثالیں ہیں۔ سوال یہ ہے،کہ کیا آج ہمارے نوجوان کم تر ہیں؟ یا ہم نے ان سے تاریخ، مقصد اور خود اعتمادی چھین لی ہے؟ بس دعا ہے، کہ اے اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو اپنی طرف خوبصورت انداز میں لوٹا دے، ہمیں اپنے دین کا سچا خادم بنا، اور نوجوانوں کو پھر سے تاریخ ساز بنا دے۔ آمین۔ منقول
٭٭٭














