ریاستہائے متحدہ امریکہ کی متعدد ریاستوں میں آجکل ایک خاص نوعیت کی اضطرابی کیفیت محسوس کی جا رہی ہے ۔ وفاقی حکومت کی پیرا ملٹری فورس (ICE)نے امیگریشن کے قوانین کے نفاذ کے نام پر ایک ایسی مہم چلا رکھی ہے جس نے سماج اور معیشت کیلئے بڑے بڑے چیلنجز کھڑے کر دئیے ہیں۔ امریکہ کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک امیگرنٹس پر رہتا رہا ہے۔ یہ امیگرنٹس چاہے برین ڈرین کے ذریعے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کے جدید میدانوں میں جھنڈے گاڑنے والے ذہین لوگ ہوں یا وسیع و عریض کھیتوں میں سرد و گرم موسموں میں کام کرنے والے جفاکش مزدور ہوں، یہ سب اس سپر پاور کی ترقی کیلئے ہمیشہ ناگزیر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس حقیقت کو جانتے اور پہچانتے ہوئے بھی پرانے اور نئے امیگرنٹس کے درمیان جھگڑے اور اختلافات بھی کبھی ختم نہیں ہو سکے۔امریکہ کی وسطی ریاست منیسوٹا میں مقامی اور وفاقی اداروں کے درمیان جاری حالیہ تصادم بھی، امیگریشن پالیسی کے نفاذ کے دوران پیدا ہونے والے اختلافات کی جنگ ہے۔ پرانے اور نئے امیگرنٹس میں نسلی امتیاز بھی اس جنگ کو مزید ایندھن فراہم کرتا رہتا ہے۔ وفاقی حکومت کی پیرا ملٹری فورس (ICE)نے آجکل اپنی طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے، ایسے ہتھکنڈے اپنا لئے ہیں کہ جس سے امریکہ کی آئینی، قانونی اور معاشرتی روایات شکست و ریخت کا شکار ہیں۔ ظلم و جبر کے آہنی ہاتھوں نے کئی امن پسند امریکیوں کی جان تک لے لی ہے۔ بہت بڑی تعداد میں کمسن بچے اپنے والدین کی شفقت سے جیتے جی محروم ہو چکے ہیں اور خوف و دہشت کی ایک ایسی فضا وجود میں آچکی ہے جس کی مثال کئی ترقی پذیر معاشروں میں بھی نہیں ملتی حالانکہ عزم شاکری تو کہتے رہے کہ!
کسی چراغ کی آنکھوں میں ڈر نہیں آئے
وہ رات ہی نہ ہو جس کی سحر نہیں آئے
امریکہ کی سپر پاور، زوال کا شکار تو کئی دہائیوں سے ہے لیکن اس موجودہ معاشرتی کشمکش نے اس بہت بڑی اور عظیم طاقتور ریاست کی بنیادیں تک ہلا دی ہیں۔ انسانوں کے بنیادی حقوق، آئین و قانون کی بالادستی اور دنیا بھر میں امن و انصاف کے قیام کی جدوجہد کرنے والی اس ریاست کی زبوں حالی اب دیکھی نہیں جا سکتی۔ لاکھوں امریکی اپنی عظیم ریاست کی اس تنزلی پر بیحد پریشان تو ہیں لیکن بیبس نظر آتے ہیں۔ طاقت کا بے جا استعمال کرنے والی ملٹری فورس، کورٹس کے احکامات بھی نہیں مانتی۔ حق و سچ کی بات کہنے والے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ کمزور طبقہ، اشرافیہ کی ریشہ دوانیوں کی زد میں ہے۔ اشیا کی قیمتیں روز افزوں ہیں اور عام لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ گھر کا ہر فرد، کام کرنے پر مجبور ہے۔ لگتا ہے سور طہ کی یہ آیت امریکہ پہ نافذ ہو چکی ہے۔
ومن اعرض عن ذِرِ فاِن لہ معِیش ضنا ونحشرہ یوم القِیمِ اعم
اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔انتہائی سرد موسم کے باوجود امریکہ کے طول و عرض میں عوام الناس نے بہت بڑے بڑے پرامن مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ICE کی ظالمانہ سرگرمیوں کو روکنے کیلئے جان پر کھیل کر بھی عام لوگ ان کا بلا خوف و خطر سامنا کر رہے ہیں، یہ مثالی جدوجہد یقینا رنگ لائے گی اور ظلم و جبر کا یہ ماحول ضرور ختم ہوگا۔ فرحت عباس شاہ فرماتے ہیں۔ہمارے وہموں کی ترتیب کو نہ چھیڑے کوئی
کہ اب ، حضور ! اسی میں خوشی ہماری ہے
عدالتیں ہوں یا سرکار ہو یا دیگر ہوں
سبھی ہے انکا ، فقط شاعری ہماری ہے
بلند و برتر و اعلیٰ براے عز وجلال
اسے بھی دیکھ جو بے مائیگی ہماری ہے
خدائے غم تری تقسیم کو سمجھتے ہیں
خوشی ہے اوروں کی آذردگی ہماری ہے
تمہارے ظلم کا انجام ہونے والا ہے
ہمیں یقین ہے اگلی صدی ہماری ہے
٭٭٭












