”تم ہارتے کیوں ہو”

0
10
ماجد جرال
ماجد جرال

پاکستانی کرکٹ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ شائقینِ کرکٹ کے لیے یہ کہنا کسی صدمے سے کم نہیں کہ جو ٹیم کبھی عالمی سطح پر اپنی غیر متوقع کارکردگی اور جارحانہ انداز کے لیے مشہور تھی، آج وہ مسلسل تنزلی کا شکار نظر آتی ہے۔ یہ بحران محض میدان میں شکست تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں انتظامی ڈھانچے، احتساب کے فقدان اور میرٹ کی پامالی تک پھیلی ہوئی ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی قومی ٹیم کی کارکردگی میں واضح اتار چڑھا ئودیکھا گیا، اہم ٹورنامنٹس میں ناقص منصوبہ بندی، ٹیم سلیکشن میں تضادات اور بار بار کپتان و کوچ کی تبدیلی نے استحکام کو شدید متاثر کیا۔ جب بھی ٹیم کوئی میچ ہارتی ہے تو ساری ذمہ داری کھلاڑیوں پر ڈال دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خرابی صرف میدان تک محدود نہیں۔ بورڈ کی سطح پر پالیسیوں کا عدم تسلسل اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ انتظامیہ پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ فیصلے میرٹ کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند یا سیاسی دبا کے تحت کیے جاتے ہیں۔ کوچنگ سٹاف کی تقرری ہو یا سلیکشن کمیٹی کی تشکیل، اکثر یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ شفافیت کا فقدان ہے۔ جب ادارے کے اندر احتساب کا مثر نظام نہ ہو تو کارکردگی میں بہتری کی توقع بھی عبث ہے۔ اگر کسی افسر یا سلیکٹر کے فیصلے غلط ثابت ہوں تو اس کا جواب دہ کون ہے؟ یہ سوال آج بھی تشنہ ہے۔کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی تنقید سے بالاتر نہیں، جدید کرکٹ میں فٹنس، ذہنی مضبوطی اور مستقل مزاجی بنیادی تقاضے ہیں۔ بدقسمتی سے کئی مواقع پر پاکستانی کھلاڑی دبائو میں بکھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ فیلڈنگ کی خرابیاں، غیر ذمہ دارانہ شاٹس اور میچ کی صورتحال کے مطابق حکمت عملی نہ اپنانا ٹیم کی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ٹیم میں عدم استحکام ہو اور مستقل غیر یقینی ہو تو کھلاڑیوں کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ملک بھر میں موجود باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو مواقع نہیں مل پاتے۔ ڈومیسٹک سطح پر عمدہ کارکردگی دکھانے والے کئی کھلاڑی سالہا سال انتظار کرتے رہتے ہیں، جبکہ بعض ایسے نام بار بار ٹیم میں شامل ہو جاتے ہیں جن کی حالیہ کارکردگی متاثر کن نہیں ہوتی۔ یہ تاثر کہ بغیر سفارش یا اثر و رسوخ کے قومی ٹیم تک رسائی ممکن نہیں، نوجوانوں کے حوصلے پست کر رہا ہے۔ اگر میرٹ کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو کسی بھی کھیل کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔پاکستان کی کرکٹ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی شفاف نظام اپنایا گیا اور نوجوانوں کو اعتماد دیا گیا، نتائج مثبت آئے۔ قومی کرکٹ ٹیم نے ماضی میں محدود وسائل کے باوجود عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹیں لیکن آج کے دور میں صرف ٹیلنٹ کافی نہیں، مضبوط نظام اور واضح حکمت عملی بھی ضروری ہے۔اس بحران سے نکلنے کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، سب سے پہلے بورڈ کو سیاسی مداخلت سے پاک، خودمختار اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ سلیکشن کے عمل کو مکمل شفاف بنایا جائے اور کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب یقینی بنایا جائے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط کر کے نوجوانوں کو آگے آنے کے برابر مواقع دیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ احتساب کا ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں ناکامی کی صورت میں ذمہ داران کا تعین ہو اور اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔پاکستانی عوام کرکٹ سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ اس کھیل کی بحالی صرف ایک کھیل کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی وقار کا معاملہ بھی ہے۔ اگر انتظامیہ اور کھلاڑی مل کر خود احتسابی اور اصلاح کا راستہ اختیار کریں تو یہ زوال عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر، پاکستانی کرکٹ واقعی تباہی کے دہانے سے آگے بڑھ سکتی ہے، جس کا نقصان آنے والی نسلوں کو بھی اٹھانا پڑے گا۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here