عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقلی
عمران خان پاکستان کی وہ واحد شخصیت ہیں جوکہ بیک وقت ملک کے ساتھ پوری دنیا میں اپنی شہرت اور مقبولیت کے اعلیٰ درجات پر فائز ہیں ، ایسی شہرت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہے ، پاکستانی حکومت عمران خان کو آسان نہ لے بلکہ عالمی تناظر میں اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرے خاص طور پر عمران خان کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، اگر واقعہ عمران خان کے ساتھ آنکھ کی بینائی کی کمزوری کا معاملہ ہے تو اُن کو اُن کی پسند کے ڈاکٹراور ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں ، خدا نخواستہ اگرعمران خان کو دوران حراست کچھ ہو جاتا ہے تو حکومت اور ملک پاکستان کے لیے اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے ، عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں میں حرکت نظر آئی ہے، وہ آہستہ آہستہ احتجاج کی طرف مائل ہو رہے ہیں ، اسلام آباد ، راولپنڈی میں اکا دُکا مقامات پر لوگوں کی کثیر تعداد جمع ہوئی ہے جس کی قیادت علی امین گنڈا پور نے خود کی ہے۔تحریک انصاف عمران خان کے علاج کے لیے احتجاج تو کر ہی رہی ہے لیکن ساتھ ہی ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے ا?ئی ہے جب حال ہی میں وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت اور سکیورٹی اردوں کے درمیان انتظامی نوعیت کی چند ملاقاتیں ہوئی ہیں۔منگل 10 فروری کو پشاور کے کور ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس ہوا۔ اس صوبائی اجلاس میں وفاقی حکومت کے نمائندے شریک ہوئے، عسکری قیادت شریک ہوئی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل ا?فریدی بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی شفیع جان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ‘اجلاس میں خیبر پختونخوا کے مسائل پر بات ہوئی، معیشت اور امن و امان سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔یہ غیر معمولی اس وجہ سے تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے وفاق اور فوج سے شدید اختلافات ہیں۔ فوج کے ترجمان پریس کانفرنسز میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت خیبر پختونخوا میں ممکنہ فوجی ا?پریشن کی بھی مخالفت کرتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا الزام ہے کہ ا?ٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں عوامی ووٹ تو اسے ملا تھا لیکن یہ مینڈیٹ چھین لیا گیا۔ اسی الزام کے تحت تحریک انصاف وفاقی حکومت اور عسکری قیادت پر بھی تنقید کرتی ہے۔نو مئی 2023 کو ملک کے کئی شہروں میں ہجوم نے عسکری تنصیبات اور اہم عمارات کو نشانہ بنایا تھا۔ حکومت اور عسکری قیادت اس کا الزام تحریک انصاف کو دیتی ہے۔تحریک انصاف دعویٰ کرتی ہے کہ عمران خان کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور الزام لگاتی ہے کہ دباؤ کی وجہ سے عدالتیں ان جھوٹے مقدمات کو ختم نہیں کر رہیں۔ پی ٹی آئی کو یہ بھی شکایت ہے کہ عمران خان سے ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور عمران خان کی سزاؤں کو ‘انصاف پر مبنی’ عدالتی فیصلے قرار دیتی ہے۔ان دعووں اور الزامات کے سبب تحریک انصاف کے حکومت اور فوج کے ساتھ تعلقات سخت کشیدہ ہیں۔ ایسی صورت حال میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ایسی ملاقات میں شریک ہونا غیر معمولی تھا جس میں وفاقی حکومت اور فوج کی قیادت موجود ہو۔اسی روز ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے تین گھنٹے ملاقات کی اور ان کی رپورٹ کے بعد عدالت نے عمران خان کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا۔سہیل آفریدی نے دو فروری کو وزیر اعظم سے ملاقات کی، تین فروری کو عمران خان کی اہلیہ سے ان کے اہل خانہ کی ملاقات ممکن ہوئی اور یہ ملاقات تین ماہ کے وقفے کے بعد ہوئی۔ پانچ فروری کو ایپکس کمیٹی اجلاس میں صوبائی و فوجی حکام نے امن و امان کے لیے اشتراک پر اتفاق کیا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ، فوج اور خیبرپختونخوا کی حکومت کے درمیان اب سرد مہری ختم ہو رہی ہے ، برف آہستہ آہستہ پگھل رہی ہے ، معاملات معمول کی طرف آ رہے ہیں ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ گذشتہ سال اگست سے خالی تھا۔اس عہدے کے لیے عمران خان نے محمود خان اچکزئی کا انتخاب کیا تھا لیکن حکومت نوٹیفیکیشن جاری نہیں کر رہی تھی لیکن اس سال جنوری میں نا صرف محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا بلکہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں محمود خان اچکزئی نے ایوان کی مضبوطی کے لیے غیر مشروط حمایت کی پیشکش کی تھی اور ‘جو ہوا سو ہوا’ کہہ کر ماضی کی غلطیاں اور تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
٭٭٭









