ممدانی نے ایران پر حملہ غیر قانونی وجارحیت قرار دیدیا، ٹرمپ پر شدید تنقید

0
14

نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے ایران کیخلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک تباہ کن اشتعال انگیزی اورغیر قانونی جارحیت قرار دیا ہے۔ ممدانی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محض دو روز قبل انہوں نے وائٹ ہاؤس میںصدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، جسے انہوں نے ہاؤسنگ اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تعمیری قرار دیا تھا۔ تاہم، ہفتے کے روز بروکلین میں ایک تقریب کے دوران میئر نے اپنے لہجے میں سختی لاتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ایک نئی جنگ نہیں چاہتے، بلکہ ان کی ترجیح ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران کا حل ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہفتے کی صبح ایک ویڈیو بیان کے ذریعے ایران میں “بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن” کا آغاز کرنے کا اعلان کیا، جس کا واضح مقصد وہاں کی موجودہ حکومت کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں تہران سمیت کئی بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں ایرانی میڈیا نے ایک اسکول پر حملے کے نتیجے میں درجنوں طالبات کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بادل بھی دیکھے گئے ہیں، تاہم ان کی صورتحال کے بارے میں اب تک کوئی حتمی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ممدانی کی جانب سے یہ تنقید ان کے اور ٹرمپ کے درمیان موجود پیچیدہ تعلقات کو مزید الجھا سکتی ہے۔ اگرچہ میئر ماضی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر بھی سوالات اٹھا چکے ہیں، لیکن ایران پر حالیہ حملہ ایک بڑے پیمانے کی جنگی کارروائی ہے جس نے نیویارک کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ میئر نے واضح کیا کہ وہ صدر کے ساتھ اپنے اختلافات کو نجی اور عوامی سطح پر دوٹوک انداز میں بیان کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس دوران نیویارک پولیس (NYPD) نے شہر میں کسی بھی ممکنہ ردعمل کے پیشِ نظر حساس مقامات، مذہبی مراکز اور سفارتی دفاتر پر گشت بڑھا دیا ہے، جبکہ ممدانی نے ایرانی نڑاد امریکیوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ شہر کے سماجی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں اور نیویارک میں مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here