اسرائیل کیساتھ حساس معلومات کے لازمی تبادلے کا بل پیش

0
19

واشنگٹن (پاکستان نیوز)سینیٹ میں ایک نیا انٹیلیجنس اتھارائزیشن بل متعارف کرایا گیا ہے جس کے اندر شامل ایک انتہائی اہم شق کے تحت صدر اور ملکی انٹیلیجنس اداروں کے لیے یہ لازمی قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تمام کلیدی موضوعات پر اسرائیل کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے کو وسیع پیمانے پر بڑھائیں۔ ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن اور نیویارک سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلی برانڈ کی مشترکہ سرپرستی میں تیار کردہ یہ مسودہ قانون امریکی صدر کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی بھی مخصوص اور واضح قومی سلامتی کے خطرے کے بغیر اس انٹیلیجنس شیئرنگ کو معطل یا کم نہیں کر سکیں گے اور کسی بھی ایسی استثنائی صورت میں انھیں 15 دنوں کے اندر کانگریس کو تفصیلی جوابدہی کرنی ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قانون سازی ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب امریکی عوام میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور واشنگٹن میں موجود اسرائیل نواز قوتیں اب عوامی بجٹ اور کھلی امداد پر انحصار کم کر کے انٹیلیجنس اداروں کے پسِ پردہ نظام کو اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ دفاعی ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی ریاست کے ساتھ معلومات کے تبادلے کو قانوناً لازمی بنانا امریکی انٹیلیجنس کے مروجہ اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ اس سے انتہائی خفیہ آپریشنز، جاسوسی کے ذرائع اور حساس تکنیکی ڈیٹا کے بے نقاب ہونے کا سنگین خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ماضی میں اسرائیل کی جانب سے امریکہ کے خلاف ہی جاسوسی کی جارحانہ سرگرمیوں اور واشنگٹن کے سفارتی مفادات کے برعکس خطے میں شروع کیے گئے تنازعات کے باعث اس بل کو امریکی خود مختاری پر ایک بڑا سمجھوتہ قرار دیا جا رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here