فیفا ورلڈ کپ میں امریکہ کو عبرتناک شکست پر ٹرمپ شدید تنقید کی زد میں

0
8

نیویارک (پاکستان نیوز)امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران میزبان ملک امریکہ کی بیلجیم کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید سیاسی اور عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ سیاٹل میں کھیلے گئے ایک سنسنی خیز میچ میں بیلجیم نے امریکہ کو 1ـ4 سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ اس نتیجے کے ساتھ ہی ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار تمام میزبان ممالک ٹورنامنٹ کے ابتدائی مراحل میں ہی باہر ہو گئے ہیں۔اس شکست نے نہ صرف امریکی شائقین کو مایوس کیا بلکہ امریکی صدر کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوئی ہے۔ برطانیہ کے معروف اخبار کے سیاسی ایڈیٹر جیمز بال نے اپنے تازہ مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی سیاسی ساکھ کو امریکی فٹ بال ٹیم کی کامیابی سے جوڑ رکھا تھا اور اب وہ ٹیم کی اس ناکامی کے ساتھ خود بھی شدید زوال کا شکار ہوں گے۔ میچ سے قبل ایک بڑا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو ذاتی طور پر فون کیا تاکہ امریکی اسٹرائیکر فولارین بالوگن پر عائد سرخ کارڈ کی پابندی کو ختم کرایا جا سکے۔ فیفا نے حیران کن طور پر یہ پابندی ہٹا دی، جس پر یورپی فٹ بال ایسوسی ایشن یوئیفا نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے کھیلوں کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ تاہم، اس خصوصی رعایت کے باوجود امریکی ٹیم بیلجیم کو شکست دینے میں ناکام رہی۔ میچ کے بعد بیلجیم کے سرکاری اکاؤنٹ نے جشن مناتے ہوئے کھلاڑیوں کی تصویر کے ساتھ ٹرمپ کے ماضی کے بیانات کا مذاق بھی اڑایا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی اس مداخلت نے دنیا بھر میں امریکی ٹیم کے خلاف ایک منفی ماحول پیدا کر دیا، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شائقین نے امریکہ کے خلاف بیلجیم کی حمایت کی۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ ایران جنگ کے معاشی اثرات اور یورپی اتحادیوں بشمول اٹلی اور ڈنمارک کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بن رہے تھے۔ وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے اقدام کا دفاع کیا اور کہا کہ انہوں نے صرف معاملے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی، کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ تاہم، اس بڑی ناکامی کے بعد عام طور پر جارحانہ رویہ رکھنے والے صدر نے مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے، جو ان کی شدید سبکی کا واضح ثبوت ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here