لاہور (پاکستان نیوز)خلیجی ممالک سے مارچ اور جولائی کے درمیان اکیس ہزار نو سو اکیاون پاکستانی شہریوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور دیگر الزامات کے تحت واپس ان کے وطن بھیج دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران وزارتِ داخلہ اور منشیات کنٹرول کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ان افراد کی بے دخلی میں سب سے بڑی تعداد یعنی تقریباً 15500 افراد کو سعودی عرب سے واپس بھیجا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے 3803 اور عمان نے 1606 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا۔ اس کے علاوہ بحرین، قطر اور کویت سے بھی درجنوں شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بے دخل کیے گئے افراد میں 4628 مفرور ملزمان شامل ہیں جن میں سے اکثر کو سعودی عرب اور امارات سے گرفتار کر کے بھیجا گیا۔ مزید برآں ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی قیام، گداگری، جعلی دستاویزات، پاسپورٹ کی گمشدگی، سیکیورٹی وجوہات اور ڈکیتی کے واقعات میں ملوث ہونے کی بنا پر بھی کارروائیاں کی گئیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 472 گداگروں کو بھی واپس بھیجا گیا جبکہ 9 افراد کو انٹرپول کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے لایا گیا۔ دستاویزات کے مطابق 6662 افراد کو مختلف دیگر خلاف ورزیوں کی بنا پر بے دخل کیا گیا جن کی تفصیلی وجوہات ایوان میں پیش نہیں کی گئیں۔ خلیجی ریاستوں میں ویزا قوانین کی سخت پابندی کی وجہ سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو داخلے سے بھی روکا گیا۔







