نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک میں سیاسی فضا اس وقت شدید گرم ہو گئی ہے جب گورنر کیتھی ہوچول کی جانب سے مسلم برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کو بروس بلیک مین نے تعصبانہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ گورنر کیتھی ہوچول نے ایک مقامی مسجد کے دورے کے دوران اسلامی اقدار اور مذہبی آداب کا احترام کرتے ہوئے سر پر دوپٹہ اوڑھا جو ان کی روشن خیالی اور تمام مذاہب کے لیے مساوی احترام کی ایک بہترین مثال تھا۔ ان کے اس اقدام کو نیویارک کی مسلم برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بے حد سراہا گیا کیونکہ یہ ایک رہنما کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنی ریاست کے تمام شہریوں کو برابر کا احترام دے۔ تاہم نساؤ کاؤنٹی کے بروس بلیک مین نے اس خالصتاً اخلاقی اور تعظیمی عمل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اور سوشل میڈیا پر اسلام فوبیا پر مبنی مواد شائع کیا۔ بلیک مین کا یہ غیر محتاط بیان نہ صرف ان کی تنگ نظری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے مسلم برادری کے احساسات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ مختلف مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے بلیک مین کے اس رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے معاشرتی ہم آہنگی کے خلاف قرار دیا ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے مذہبی علامتوں کا استعمال اور انتخابی فائدے کے لیے اقلیتوں کو نشانہ بنانا انتہائی شرمناک اقدام ہے۔ دوسری جانب گورنر کیتھی ہوچول نے اپنے مثبت رویے سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ تمام شہریوں کی نمائندہ ہیں اور نیویارک میں مذہبی رواداری اور باہمی احترام کی روایت کو ہمیشہ برقرار رکھیں گی۔











