مڈ ٹرم انتخابات میں مسلم کمیونٹی انتخابی مہم کا اہم ترین تنازع بن گئی، رپورٹ

0
8

نیویارک (پاکستان نیوز)تین نومبر کو ہونیوالے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور مختلف ریاستوں میں مسلم برادری کو مہم کا مرکزی موضوع بنایا جا رہا ہے۔ ریپبلکن جماعت کے سرکردہ رہنماؤں نے ملک کے مختلف حصوں میں مسلم امیدواروں اور ان کے منشور کو سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ریاست مشی گن میں سینیٹ کے مسلم امیدوار عبدالسید کے بیانات پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے ہیں جبکہ ریاست ٹیکساس میں بھی گورنر اور دیگر قانون سازوں کی جانب سے مساجد اور اسلامی منصوبوں کے حوالے سے انکوائری کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ ریپبلکن پالیسی سازوں کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی سلامتی اور آئین کی بالا دستی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی اثرات کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی چیلنجز اور مہنگائی جیسے مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے شناختی سیاست کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس حالیہ برسوں میں امریکی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ متعدد ریاستوں میں اہم عہدوں پر مسلمان شخصیات کی کامیابی کے بعد انتخابی میدان میں مقابلے کی فضا مزید گرم ہو گئی ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں نے اس سیاسی بیانیے کو مخصوص ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران اٹھنے والے ان نعروں اور تنازعات نے پورے ملک میں ایک نئی آئینی اور سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here