سرمایہ داروں کا راج؛جمہوریت کیلئے خطرہ قرار

0
10

نیویارک (پاکستان نیوز) دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی انتہائی دائیں بازو کی سیاست اور معاشی اشرافیہ کے گٹھ جوڑ پر انتہائی سنگین خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب امریکہ میں عوام محنت کشوں کا دن منا رہے تھے تو جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار ڈوئچلینڈ نے انتخابی میدان میں چوالیس فیصد ووٹ حاصل کر کے ایک نیا تاریخ ساز دھماکہ کر دیا۔ اس معرکے کے دوران 35 سالہ رہنما اولرخ زیگمند نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کا نظام واپس حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس جماعت کا منشور تارکین وطن کی بے دخلی، یورپی یونین اور نیٹو کے خاتمے اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات کی استواری پر مبنی ہے جبکہ ماحولیاتی اور تکنیکی ضوابط کو ختم کر کے ایندھن اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں سے وابستہ ارب پتیوں کو کھلی چھوٹ دینا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سیاسی اور معاشی تبدیلی پر روس کے ترجمان کیرل دمتریو کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک نے بھی سوشل میڈیا پر اس کامیابی کو سراہا۔ یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ مغربی جمہوریت پر ہٹلر کے افکار کے حامی غلبہ حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ ناقدین نے چین کے ریاستی سرمایہ داری کے ماڈل کو عالمی جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ لیکن زیادہ تر ماہرین کا موقف ہے کہ امریکی جمہوریت کو حقیقی خطرہ بیجنگ سے نہیں بلکہ سلیکان ویلی وشوٹا مار اے لاگو اور اعلیٰ عدلیہ کے ان گورکنوں سے ہے جو سالہا سال سے سرمایہ داروں کی مراعات پر پل رہے ہیں۔ سرمایہ داری کا نظام فٹ بال کے کھیل کی مانند ہے جہاں قواعد و ضوابط اور منصفین کی غیر جانبداری ہی کھیل کی روح کو برقرار رکھتی ہے۔ اگر میدان میں طاقتور ٹیم کو قواعد توڑنے کی اجازت دے دی جائے تو پورا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ چین نے 1978 میں ڈینگ شیاؤپنگ کی قیادت میں منڈی کی معیشت اپنانے کے بعد اٹھاسی کروڑ عوام کو غربت سے نکالا جو انسانی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ 1986 میں جب تام ہارٹمین نے بیجنگ کا دورہ کیا تو وہ ایک غریب شہر تھا جہاں شینزن جیسے تجرباتی معاشی زونز قائم کیے جا رہے تھے۔ چین نے یہ ثابت کیا کہ سرمایہ داری کو جمہوریت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے ریگن کے نیو لبرل ازم کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ارب پتیوں پر سخت ضوابط عائد کیے۔ جب چین کے امیر ترین شخص جیک ما نے حکومتی قوانین کو ہدفِ تنقید بنایا تو حکومت نے ان کے انٹ گروپ کے آئی پی او کو منسوخ کر دیا اور علی بابا پر 2.8 ارب ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کر کے انہیں کچھ عرصے کے لیے عوامی منظر نامے سے ہٹا دیا۔ امریکہ ماضی میں معاشی اشرافیہ کو لگام ڈالنے کا طریقہ بخوبی جانتا تھا۔ 1933 میں صدر فرینکلن روزویلٹ نے معاشی بحران کے دوران طاقت سنبھالی اور 1936 میں اپنی جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاشی شاہی نظام کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔ روزویلٹ نے ارب پتیوں پر ٹیکس کی شرح ننوے فیصد تک بڑھائی اور عوامی فلاح کے منصوبے شروع کر کے ملک کو دوبارہ پٹری پر ڈالا۔ انہوں نے گلاس سٹیگل ایکٹ واگنر ایکٹ اور منصفانہ اجرت جیسے قوانین نافذ کیے اور میڈیسن اسکوائر گارڈن میں اجارہ داریوں کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا۔ روزویلٹ کا یہ اقدام امریکہ میں وسیع تر متوسط طبقے کی بنیاد بنا۔ تاہم 1971 میں لوئس پاول کی دستاویز اور نکسن کے دور میں عدالتی اصلاحات کے ذریعے اس معاشی مساوات کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ رچرڈ نکسن رونالڈ ریگن کوچ برادران مرڈوک اور دیگر ارب پتیوں نے نظریاتی مراکز کے ذریعے حکومتی ضوابط کو معاشی ترقی کا دشمن قرار دیا۔ 2010 میں سپریم کورٹ کے متنازع فیصلے سٹیزنز یونائیٹڈ نے سرمایہ داروں کو انتخابات میں من مانا پیسہ بہانے کی کھلی اجازت دے دی۔ رپورٹ کے مطابق 2024 کے انتخابات میں محض ایک سو ارب پتی خاندانوں نے 2.6 ارب ڈالر خرچ کیے۔ ایلون مسک نے تنہا 278 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور بعد میں سرکاری نظام پر اثر انداز ہونے کا موقع حاصل کیا۔ اسی طرح پیٹر تھیل نے 2009 میں اعلانیہ لکھا تھا کہ وہ آزادی اور جمہوریت کو ایک ساتھ چلتا ہوا نہیں دیکھتے۔ تام ہارٹمین کے مطابق اگر عوام نے ووٹ کی طاقت سے اس گٹھ جوڑ کا مقابلہ نہ کیا اور دستور میں ترمیم کر کے سٹیزنز یونائیٹڈ کو منسوخ نہ کیا تو جمہوریت کی بقا ناممکن ہو جائے گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here