نیویارک (پاکستان نیوز)اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر نیویارک میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ایک اہم اور غیر متوقع ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کْشنر نے شرکت کی۔ امریکی صدر کے مطابق یہ مذاکرات پہلے ایک گھنٹے کے لیے طے شدہ تھے لیکن بعد میں تین گھنٹے تک طویل ہو گئے۔ اس ملاقات میں ایرانی وفد اور ثالثوں کی موجودگی میں دوطرفہ مسائل اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
AAC
3
امریکہ کی جانب سے ایران کو ایک نئے معاہدے کی ترغیب دی جا رہی ہے جبکہ انکار کی صورت میں شدید نتائج کی تنبیہ بھی سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ بھی مستقبل میں متوقع ملاقات کا اشارہ دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔
AAC
2
عرب ممالک اور قطر کی جانب سے خطے میں پائیدار امن کے لیے خاص کوششیں کی جا رہی ہیں۔ قطر نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو کم کریں تاکہ سال 2026 کا اختتام اور سال 2027 خطے کی اقتصادی بحالی، سیاحت کے فروغ اور پائیدار امن کے سال ثابت ہو سکیں۔ ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور کشیدگی میں کمی لانے کی آمادگی کے اشارے دیے ہیں۔
AAC
1
نیویارک میں سفارتی پیش رفت











