ٹرمپ کی ایرانی تیل اور خارگ جزیرے پر قبضے کی دھمکی ؛ عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ

0
8

واشنگٹن (پاکستان نیوز)خلیج فارس کے تزویراتی خطے میں جاری کشیدگی اب ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایک طرف مذاکرات کی میز پر پیش رفت کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف فوجی کارروائیوں کی سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ تہران ان کے سخت مطالبات تسلیم کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے لیکن اس مفاہمت کی امید کے ساتھ ہی انہوں نے ایک ایسی دھمکی بھی دے دی ہے جس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے تیل کی دولت سے مالا مال جزیرے خارگ پر قبضہ کرنے کے پختہ ارادے کا اظہار کیا ہے جو ایران کی خام تیل کی برآمدات کا سب سے بڑا اور اہم ترین مرکز مانا جاتا ہے۔ اس تزویراتی ہدف کو نشانہ بنانے کا مقصد بظاہر ایران کی معیشت کی شہ رگ کو اپنے کنٹرول میں لینا ہے تاکہ تہران کو مستقل بنیادوں پر امریکی شرائط کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکہ نے بڑے پیمانے پر عسکری نقل و حرکت شروع کر دی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں امریکی میرینز پہلے ہی خطے کے سمندروں اور اڈوں پر پہنچ چکے ہیں جبکہ جدید ترین تربیت یافتہ اسپیشل فورسز اور چھاتا بردار دستوں کی تعیناتی کے احکامات بھی جاری ہو چکے ہیں۔ ان جنگی تیاریوں سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ اگر سفارت کاری کا راستہ مختصر وقت میں کامیاب نہ ہوا تو واشنگٹن زمینی مداخلت سے گریز نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ایران نے بھی ان دھمکیوں کا بھرپور جواب دینے کے لیے اپنی دفاعی صف بندی مکمل کر لی ہے اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک سخت بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کی مسلح افواج امریکی زمینی دستوں کا شدت سے انتظار کر رہی ہیں تاکہ ان پر آگ و آہن کی بارش کر کے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔ ایران کی جانب سے اس طرح کے سخت ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنی سرزمین اور معاشی اثاثوں کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ صدر ٹرمپ کے نزدیک خارگ پر قبضہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ یہ عالمی تیل کی منڈی پر اثر انداز ہونے اور ایران کے اثر و رسوخ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ایک ذریعہ ہے کیونکہ اس جزیرے سے ایران کی 90 فیصد سے زائد تیل کی تجارت وابستہ ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی قدم خطے کو ایک ایسی تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی میں تعطل کی صورت میں پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔ فی الحال امن کی صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے کیونکہ ایک طرف امن معاہدے کی باتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف بارود کی بو پھیل رہی ہے جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے گا یا پھر یہ تضادات ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here