اسلام آباد (پاکستان نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواتین کے جائیداد میں حقوق کو مزید مستحکم کرنے کیلئے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ شادی کے دوران بنائے گئے شوہر کے تمام اثاثوں میں بیوی کو برابر کا حصہ ملنا چاہیے، خواہ وہ علیحدگی کی صورت ہو یا شوہر کے انتقال کی صورت میں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے نکاح نامے کے فارم میں ترامیم کرنے پر زور دیا ہے تاکہ خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت گھریلو خواتین کو شادی کے عرصے میں بننے والے اثاثوں میں منصفانہ حصہ دیا جائے اور تمام قانونی اصلاحات میں خواتین کے مفادات کو ترجیح دی جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ خواتین ملک کی آبادی کا تقریباً 50 فیصد ہیں اور وہ ملک کے مستقبل کا لازمی حصہ ہیں، لہٰذا ایک ترقی پسند اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کے حقوق کا نفاذ ناگزیر ہے۔ مجوزہ ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ نکاح کے بعد شوہر کی ملکیت میں آنے والی کوئی بھی جائیداد طلاق یا وفات کی صورت میں بیوی کے ساتھ برابر تقسیم کی جائے، تاکہ علیحدہ قانون سازی کے بغیر بھی اس کے حقوق محفوظ رہیں۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس کیانی نے یہ سفارش بھی کی کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی سطح پر طالبات کو ان کے ازدواجی حقوق سے متعلق آگاہی دی جائے۔ یہ تعلیمی مہم خواتین کو اس قابل بنائے گی کہ وہ نکاح نامے کے کالم نمبر 18 کا درست استعمال کر کے اپنے قانونی مطالبات کو مؤثر طریقے سے پیش کر سکیں۔ یہ تاریخی قدم نہ صرف گھریلو خواتین کے مالی حقوق کا تحفظ کرے گا بلکہ پاکستان میں ازدواجی حقوق کے حوالے سے شعور کی بیداری میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔










