جدہ (پاکستان نیوز) سعودی عرب کی دریائے احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو حوثی باغیوں سے واگزار کرانے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری۔ ریاض سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے بحر احمر میں تجارت اور جہاز رانی کو بحال کرنے کے لیے یمن کے حوثی باغیوں کیخلاف وسیع پیمانے پر عسکری کارروائی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس ممکنہ عسکری مہم کا بن?ادی مقصد باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ پر حوثیوں کے کنٹرول کو ختم کرنا اور تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے مسلسل حملوں کو روکنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں زمینی جنگی عملیات یمنی فورسز کے سپرد ہوں گے جبکہ سعودی عرب ان کو فضائی مدد اور دیگر فوجی سپورٹ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے حساس معلومات فراہم کی جائیں گی تا ہم وہ راست جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ دوسری جانب پاکستان اور ترکی بھی اس مہم میں سعودی عرب کو عسکری سامان و الات کی فراہمی میں تعاون کر رہے ہیں۔ مغربی اور علاقائی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ریاض کا خیال ہے کہ جب تک حوثی باب المندب کی شاہراہ پر قابض ہیں اس وقت تک ان کے ساتھ امن مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ کارروائی کا حتمی وقت طے نہیں ہوا ہے تاہم یہ اہم مہم آنے والے چند ہفتوں میں شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کے خدشات پید ہو گئے ہیں۔









