ہمارے تمام مسلم قارئین کو رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کے حصول اور نعمتوں و فیوض کے حصول پر ہدیہ تبریک اور عبادتوں، ریاضتوں کی قبولیت کی دعائیں۔ ارادہ تو یہ تھا کہ ماہ مبارک میں مثبت اُمور و افکار کو موضوع کالم بنا سکیں، افسوس یہ کہ ہمارے کالم حالات و واقعات پر مبنی ہوتے ہیں اور حالات عالمی و مقامی حوالوں سے سوائے بدترین معاملات اور مایوس کُن واقعات سے ہی مذکور رہتے ہیں۔ گزشتہ کالم اوج پر ہے کمال بے ہنری، کے معروض میں اگر ہفتہ رفتہ کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو وطن عزیز کا حوالہ ہو یا بین المملکتی معاملات بے حسی اور خود غرضی سکہ رائج الوقت ہیں۔
گزشتہ ہفتہ کے عالمی ایشوز پر نظر ڈالیں یا وطن عزیز کی صورتحال کا جائزہ لیں کچھ اچھا نظر نہیں آتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ کے اجلاس کی کہانی لیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ غزہ اور فلسطین کے عوام کے مفاد کے برعکس یہ سارا کھیل امریکہ اور ٹرمپ کا اپنے مفادات کے گرد گھوم رہا ہے اور بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے کردار کو ماند کرنے کیلئے رچایا جا رہا ہے، عالمی اہم ممالک چین، روس، یورپ کے اہم ملکوں نے تو اس کھیل کا حصہ بننے سے قطعی لاتعلقی کر لی ہے لیکن اسلامی ممالک اس تماشے کے بخوشی کردار بن گئے ہیں، غزہ میں امن کے قیام کیلئے بیشتر ممالک اسلامی ہیں۔ اگرچہ کہا یہ جا رہاہے کہ ان کی افواج حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گی لیکن امریکی باجگذاران ممالک کی یہ مجال ہو سکتی ہے کہ وہ امریکی آقائوں کے حکم سے گریز کر سکیں۔ پاکستانی وزیراعظم سے جھپی اور فیلڈ مارشل کی تعریفوں کے صدر ٹرمپ کے قلابے ہر گز بے معنی نہیں ہو سکتے، یقیناً دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ ایک ایسا صدر جس نے ٹیرف کے ایشو پر اپنے سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اُڑا کر ٹیرف میں اضافہ کر دیا ہو بغیر کسی غرض کے تو گلے لگانے اور تعریفوں کا اقدام نہیں کر سکتا ہے، بقول شاعر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!امریکہ اور ٹرمپ کے عالمی برتری کے مفاداتی ایجنڈے پر تو کوئی شُبہ نہیں کہ امن کے قیام کی آڑ میں ایک طرف مذاکرات کا ڈول ڈالا جا رہا ہے تو دوسری جانب حملہ آور ہونے کیلئے بحری بیڑے ایران پہنچائے جاتے ہیں گویا کھبی دکھا کر سجی مارنے کی حرکت ہوتی ہے۔ وطن عزیز میں بھی خصوصاً سیاسی ایرینا میں یہی تماشہ بازی ہو رہی ہے۔ حکومتی و ریاستی شعبے تا حزب اختلاف سب ہی اپنے مفادات کے کھیل میں مصروف ہیں۔ معاشی طور پر آئی ایم ایف کی بیساکھی اور عالمی اداروں و دوست ممالک پر انحصار کرنے اور دہشتگردی و دشمن کی پراکسیز سے برسرپیکار شہادتوں اور حادثات سے دوچار ریاست کی وزیر اعلیٰ کے صوبائی دوروں کیلئے 14 ارب کا جہاز خریدا جاتا ہے جبکہ پی آئی اے 10 ارب میں فروخت ہو جاتی ہے۔ پنجاب وطن کا سب سے بڑا سہی لیکن اتنا بڑا بھی نہیں کہ دوروں کیلئے جہاز کی ضرورت ہو، ایک صوبے میں جہاز کی کہانی ہے تو سندھ کا وزیر اعلیٰ بھاری اکثریت سے اسمبلی میں خلاف آئین قرارداد پاس کرواتا ہے اور رد عمل میں وفاق میں شریک جماعت اختلاف و احتجاج کا راستہ اپناتی ہے۔
حالات کی خرابی اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت اور وفاق و ایک صوبے میں بھرپور نمائندگی اور حکومت کی حامل جماعت اور وفاق و مقتدرین کے درمیان اختلاف کی جڑیں اس قدر گہری ہو چکی ہیں کہ بظاہر واپسی مشکل ہی لگتی ہے۔ اس ساری صورتحال کا اثر یوں تو وطن کی خوشحالی و سالمیت پر ہو ہی رہا ہے فتنہ الہندو و دیگر دہشتگرد و سہولت کاروں کے سبب وطن کے بیٹے شہادتیں دے رہے ہیں لیکن اس سے بڑھ کر خرابی پاکستان کے محبوب ترین قائد عمران خان کیساتھ ظلم، نا انصافی اور صحت کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ تو واضح مفاد و مقصد کے طور پر ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں حتیٰ کہ اس کیساتھ صحت کے حوالے سے بھی دشمنی کی کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے لیکن افسوس کا امر یہ ہے کہ خود پارٹی کی صفوں میں مختلف دعوئوں، تحریکی اعلان کے باوجود خان کی رہائی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ایک جانب آپسی گروپنگ الزام تراشی اور مسابقت و برتری کے جھگڑے ہیں تو دوسری طرف سوشل میڈیا کی اپنی کمائی کی خود غرضی اس حقیقت کا اظہار ہے کہ عمران کی حمایت کی آڑ میں صرف مفاد کا راستہ اپنایا جا رہا ہے۔ ہم پہلے بھی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ پارٹی کے بعض عناصر ہوں یا سوشل میڈیا کے منافق ہمدرد ان کی ترجیح خان نہیں اپنا مفاد ہے۔ خان باہر آگیا تو ان کی دکانوں اور عیش و عشرت کا کھیل ختم ہو جائیگا۔ حقیقت میں تو یہ سب مفادات کا کھیل ہے۔
٭٭٭٭٭
















