اسلام آباد (پاکستان نیوز) عالمی سفارت کاری کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت متوقع ہے جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چند دنوںکے دوران پاکستان کا اہم دورہ کر سکتے ہیں۔ اس دورے کا بنیادی مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے براہ راست مذاکرات کی نگرانی کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور اسلام آباد کے باوثوق ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ امریکی صدر نے حالیہ بیانات میں پاکستان کے دارالحکومت کو مذاکرات کے لیے موزوں ترین مقام قرار دیتے ہوئے وہاں جانے کی بھرپور خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نائب صدر جے ڈی وینس پہلے ہی اسلام آباد میں ایرانی حکام کے ساتھ طویل اور مشکل مذاکرات کر چکے ہیں۔ اگرچہ ان مذاکرات میں اب تک کوئی حتمی تحریری معاہدہ طے نہیں پا سکا تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ فریقین دس میں سے آٹھ اہم نکات پر متفق ہو چکے ہیں جو کہ ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں پاکستانی عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مصالحتی کوششوں کو شاندار الفاظ میں سراہا ہے اور واضح کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی بدولت ہی فریقین دوبارہ میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوئے ہیں۔ اس مجوزہ اسلام آباد معاہدے کے تحت دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے ایک جامع ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور تجارتی راستوں کی بندش کے خطرات نے دونوں طاقتوں کو کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے چین اور سعودی عرب کے تعاون سے خود کو ایک مرکزی سفارتی مرکز کے طور پر منوایا ہے جس کے باعث اب جنیوا کے بجائے اسلام آباد کو عالمی سیاست کا محور سمجھا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت اسلام آباد کے ریڈ زون اور حساس مقامات پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دئیے گئے ہیں اور شہر کو ایک طرح سے حفاظتی حصار میں لے لیا گیا ہے۔ امریکی صدر کی آمد کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہوٹلوں اور سرکاری مہمان خانوں میں قیام و طعام کے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ نے اب تک سرکاری طور پر اس دورے کا حتمی شیڈول جاری نہیں کیا لیکن صدر کے اپنے الفاظ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ اس عمل کو خود منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایرانی وفد کے ساتھ ہونے والے اگلے دور کے مذاکرات میں ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی جیسے پیچیدہ معاملات پر بحث ہو گی جس کے لیے صدر ٹرمپ کی موجودگی کو فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔ 22 اپریل کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے قبل یہ سفارتی مشن عالمی امن کے لیے آخری اور سب سے بڑی کوشش ثابت ہو سکتا ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ 22 اپریل کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے فریقین کو دوبارہ یکجا کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات کی بحالی میں ایک یا دو دن کی تاخیر ہو سکتی ہے لیکن دونوں ممالک کے نمائندوں کی واپسی کے قوی امکانات ہیں۔ اس اہم سفارتی مشن کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں عروج پر ہیں جہاں توقع ہے کہ امریکی وفد کی قیادت دوبارہ نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے کیونکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کے بجائے نائب صدر سے براہ راست بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایرانی جانب سے اعلیٰ سطح کے سفارت کاروں اور قومی سلامتی کے مشیروں کی آمد متوقع ہے جو جوہری افزودگی کے تکنیکی پہلوؤں پر اختیار رکھتے ہوں۔ اس دوران سعودی عرب، مصر اور ترکی کے اعلیٰ حکام بھی اسلام آباد میں موجود ہیں تاکہ علاقائی امن کے اس عمل میں پاکستان کا ساتھ دے سکیں۔ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ یورینیم کی افزودگی پر پابندی کی مدت بنی ہوئی ہے جہاں امریکہ 20 سالہ پابندی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ ایران اسے 10 سال سے کم رکھنے پر بضد ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ میدان جنگ میں پیچھے ہٹے ہیں اور نہ ہی مذاکرات کی میز پر اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ کریں گے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اس بحران کے حل کے لیے برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، ترکی اور قطر کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے پیچیدہ معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ جنیوا میں ہونے والی سابقہ ملاقاتوں میں ایران نے اپنے اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کو پتلا کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ جوہری ہتھیار کی تیاری کا وقت بڑھایا جا سکے مگر واشنگٹن مکمل خاتمے کے مطالبے پر قائم ہے۔ اس سفارتی کھنچاؤ کے درمیان خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور مذاکرات کی بحالی کی خبروں سے قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری ناکہ بندی کے دوران متعدد تجارتی جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں کی طرف واپس موڑ دیا گیا ہے جس سے عالمی رسد میں خلل پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تمام تر عالمی توجہ اب پاکستان کے دارالحکومت پر مرکوز ہے جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں جاری یہ امن مشن ممکنہ طور پر ایک بڑی عالمی جنگ کو روکنے کا آخری ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔














