ایپسٹین کیس ؛مجرموں کی بجائے ہمیں اذیت دی جارہی ہے، متاثرین

0
9

واشنگٹن (پاکستان نیوز)خاتون اول کی جانب سے الزامات کی تردید اور کانگریس میں گواہیوں کی تجویز نے متاثرین میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جنہوں نے اسے طاقتور افراد کو بچانے اور اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے۔ جیفری ایپسٹین کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہونے والی ایک درجن سے زائد خواتین نے میلانیا ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کانگریس میں متاثرین کی عوامی سماعتوں کا مطالبہ کر کے ذمہ داری کا بوجھ ان متاثرہ افراد پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان خواتین اور متاثرین کے نمائندوں کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وہ پہلے ہی پولیس کو بیانات دینے اور عدالتوں میں گواہیاں فراہم کرنے کے لیے غیر معمولی ہمت دکھا چکی ہیں لہذا اب ان سے مزید قربانی مانگنا انصاف نہیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سابق خاتون اول نے ایک غیر متوقع بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ایپسٹین اور اس کی معاون گرل فرینڈ میکسویل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کی سختی سے تردید کی۔ میلانیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی اس گروہ کا شکار نہیں رہیں اور نہ ہی انہیں ان کے جرائم کا علم تھا جبکہ انہوں نے اس دعوے کو بھی جھوٹا قرار دیا کہ ایپسٹین نے ہی انہیں ڈونلڈ ٹرمپ سے متعارف کروایا تھا۔ میلانیا ٹرمپ کے بقول سوشل میڈیا پر ان کے خلاف برسوں سے جھوٹی تصاویر اور من گھڑت بیانات گردش کر رہے ہیں جن کا اب خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ تاہم متاثرین کے گروپ نے اس موقف کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تجاویز دراصل محکمہ انصاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک ان فائلوں کو مکمل طور پر منظر عام پر نہیں لایا جن کے ذریعے اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث دیگر بااثر افراد کے نام سامنے آ سکتے تھے۔ متاثرین نے پم بانڈی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں جن پر اہم دستاویزات چھپانے اور متاثرین کی شناخت کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات ہیں۔ ان خواتین کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت نے طویل عرصے سے اس تحقیقات میں کوتاہی برتی ہے اور وہ تمام ریکارڈز بشمول وفاقی تحقیقاتی ادارے کی فائلوں کو جاری کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ اس معاملے پر احتجاج کرنے والی ایک خاتون مرینا لیسردہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنی ویڈیو میں سوال اٹھایا کہ انہیں کانگریس کے سامنے دوبارہ حلف کے تحت گواہی دینے کے لیے کیوں بلایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فائلوں میں موجود ناموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی تو پھر متاثرین کو بار بار اذیت کے اس عمل سے گزارنا بے مقصد ہے۔ ایک اور متاثرہ خاتون لیزا فلپس نے اسے میلانیا ٹرمپ کی جانب سے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی مخلص ہیں تو انہیں صرف بیان بازی کے بجائے عملی طور پر قدم بڑھانا چاہیے اور متاثرین کے ساتھ مل کر انصاف کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ متاثرین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد سماعتوں کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بیشتر متاثرہ خواتین دوبارہ ان تلخ یادوں کو دہرانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ متاثرین کا اب صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ اقتدار میں موجود افراد اپنی ذمہ داری پوری کریں اور گواہیاں مانگنے کے بجائے دستیاب حقائق کی بنیاد پر مجرموں کا محاسبہ کریں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here