ایران کیخلاف نیامعاشی جال بچھا دیا گیا

0
2

نیویارک (پاکستان نیوز) امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا چودہ نکاتی سمجھوتہ بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے گزشتہ عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سمجھوتے کا بنیادی مقصد ایک ایسے فریم ورک کی تشکیل ہے جس کے ذریعے آئندہ ساٹھ دنوں کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے اور اس دوران دونوں فریقین اپنے فوجی جارحانہ اقدامات کو مکمل طور پر روکنے کے پابند ہوں گے۔اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد عالمی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے اسے مشرقِ وسطی میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس معاہدے کے بارے میں شکوک و شبہات نے جنم لینا شروع کر دیا ہے جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شاید یہ معاہدہ کسی خاص مقصد کے تحت تیار کیا گیا اور اسے ایک فریق پر مسلط کر دیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد متعدد پیچیدہ مسائل سامنے آ رہے ہیں جن کی شفاف وضاحت یا باقاعدہ بحث و تمحیص کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی افادیت کے حوالے سے سوال یہ نہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا بلکہ اصل تشویش اس بات پر ہے کہ کیا معاہدے میں درج نکات کا مطلب دونوں فریقین یکساں سمجھتے ہیں اور کیا یہ جلد بازی میں تو نہیں کیا گیا۔ اس سفارتی کوشش کا سب سے نمایاں پہلو وہ اقتصادی اقدامات ہیں جن کا مقصد ایران کی توانائی کی برآمدات کو بحال کرنا اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے دوبارہ جوڑنا ہے۔ امریکہ کے محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے نے اس معاہدے کے نفاذ کے پہلے مرحلے کے طور پر ایک خصوصی جنرل لائسنس جاری کیا ہے جو کہ اکیس اگست 2026 تک مؤثر رہے گا۔ اس لائسنس کی رو سے ایران کو اپنے خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور پیٹرولیم کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔ یہ اقدام اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کے ذریعے خریداروں کو امریکی ڈالر میں براہ راست ادائیگی کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس سے ایران کے لیے بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی تجارت کو معمول پر لانا آسان ہو جائے گا۔ اس لائسنس میں ان تمام متعلقہ خدمات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو تیل کی برآمدات کے لیے ناگزیر ہیں جن میں بینکنگ، انشورنس اور جہاز رانی کا شعبہ سرفہرست ہے۔ سمجھوتے کے تحت امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل آمدورفت کی ضمانت دی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی توانائی کی سپلائی لائنوں پر منڈلاتے ہوئے خطرات میں کمی آئی ہے اور بحری تجارت سے وابستہ انشورنس کمپنیوں نے بھی اپنی پالیسیوں میں نرمی کے اشارے دئیے ہیں۔اس معاہدے کا ایک اور اہم اور تزویراتی پہلو ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی ہے جس کا مقصد ایران کی معاشی بحالی کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر ان وسائل کا استعمال خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی درآمدات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں آبنائے ہرمز کا معاملہ سب سے زیادہ تزویراتی نوعیت کا حامل ہے کیونکہ ایران کو اس آبی گزرگاہ کو کھولنے کا انعام تو مل گیا ہے جس کے تحت اسے کچھ عرصے کے لیے پابندیوں سے عارضی چھوٹ یعنی ویور حاصل ہو جائے گی لیکن اس کے بدلے میں ایران نے اپنی سب سے بڑی تزویراتی طاقت کھو دی ہے کیونکہ اب اسے بار بار بند کرنے کی دھمکیاں دینا بے معنی ہو چکا ہے اور اسے اسٹریٹجک فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا جو ماضی میں حاصل تھا۔ معاشی پہلو سے دیکھا جائے تو اس معاہدے میں ذکر کردہ تعمیرِ نو کا فنڈ دراصل کوئی سرکاری معاوضہ نہیں ہے جو جنگ کی تباہ کاریوں کے لیے ریاست کو دیا جائے بلکہ یہ ایک نجی سرمایہ کاری کا پول ہے جس کا کنٹرول بین الاقوامی مالیاتی اداروں یا خلیجی ممالک کے پاس ہوگا اور اس میں ایرانی حکومت کا عمل دخل انتہائی محدود رہے گا جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کی اپنی مالیاتی خود مختاری داؤ پر لگ جائے گی اور ملک ایک ایسے معاشی نظام کی طرف چلا جائے گا جہاں فیصلے مقامی مفادات کے بجائے بیرونی اثر و رسوخ کے تابع ہوں گے۔ آخر میں نیوکلیئر پروگرام اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے بھی معاہدہ مبہم دکھائی دیتا ہے اور یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا کیونکہ اہم معاملات کو ساٹھ روزہ مذاکرات کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ دستاویز تنازعات کا حتمی حل نہیں بلکہ انہیں صرف وقتی طور پر مؤخر کرنے کی ایک کوشش ہے اور اگر آنے والے وقت میں دونوں فریقین ایک ہی متن سے مختلف نتائج اخذ کرتے رہے تو یہ معاہدہ ایک سفارتی کامیابی کے بجائے ایک ایسے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جس سے خطے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here