واشنگٹن (پاکستان نیوز) عدالت عظمیٰ نے ایک انتہائی اہم اور متنازعہ فیصلے کے ذریعے گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے امیگریشن کے ضوابط کو مزید سخت کر دیا ہے جس کے بعد اب سرحدی حکام کے لیے قانونی مستقل رہائشیوں کو ملک بدر کرنا پہلے کی نسبت بہت آسان ہو گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ وفاقی حکام کے پاس گرین کارڈ ہولڈرز کو واپس بھیجنے یا ان کے داخلے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے صرف معقول شبہہ ہونا ہی کافی ہے اور اب حکام پر یہ لازم نہیں رہا کہ وہ جرم کے حتمی اور ٹھوس ثبوت فراہم کریں۔ یہ فیصلہ چھ کے مقابلے میں تین کے تناسب سے سنایا گیا ہے جس کے بعد قانونی رہائشیوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کو ایک نئی قانونی بحث کا سامنا ہے۔ اس مقدمے کا تعلق ایک چینی نڑاد گرین کارڈ ہولڈر سے تھا جنہیں بیرون ملک سے واپسی پر نیویارک کے ہوائی اڈے پر روکا گیا تھا۔ عدالتی رائے میں کہا گیا ہے کہ قانون حکومت پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالتا کہ وہ کسی مخصوص جرم کو ثابت کرے۔ تاہم اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اختلافی نوٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام حکومت کو غیر معمولی اور وسیع تر اختیارات دے گا جس سے لاکھوں افراد کی زندگی اور ان کی مستقل رہائش کے حقوق براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں تارکین وطن کے لیے امریکی سرحدوں پر داخلے کے عمل کو انتہائی غیر یقینی اور پیچیدہ بنا دے گا۔












