تجزیاتی رپورٹ
نیشنل فیڈریشن آف انڈیپینڈنٹ بزنس کی تازہ رپورٹ کے مطابق ٹیکسوں کا بوجھ، مسلسل بڑھتی مہنگائی اور افرادی قوت کی شدید قلت معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں بن گئیں۔ امریکہ بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے مالکان مستقبل کی معاشی صورتحال کے حوالے سے شدید مایوسی اور غیر یقینی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ ترین معاشی سروے اور اعشاریوں کے مطابق چھوٹے کاروباروں کی معاشی امید کا اشاریہ مئی کے مہینے میں تیزی سے گر کر اکتوبر 2024 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ نیشنل فیڈریشن آف انڈیپینڈنٹ بزنس کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاروباری امیدوں کا یہ اشاریہ 0.6 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے ساتھ اب 95.3 پر پہنچ چکا ہے۔ اس گراوٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے بعد سے معاشی مارکیٹ میں پیدا ہونے والے تمام تر مثبت رجحانات اور کاروباری فوائد کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس وقت امریکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے چھوٹے کاروباری اداروں کو بیک وقت کئی محاذوں پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی سروے میں شامل مالکان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی کاروباری بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ٹیکسوں کی بڑھتی ہوئی شرح، روزمرہ کی اشیائ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ یعنی مہنگائی اور ملازمین کی اجرتوں یا لیبر کے اخراجات میں ہونے والا بے پناہ اضافہ ہے۔ ان مالیاتی دباؤ کے باعث بہت سے اداروں کے لیے اپنے اخراجات کو پورا کرنا اور منافع کمانا مشکل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی روزمرہ کی کاروباری حکمت عملی اور بجٹ کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مالیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ افرادی قوت یا لیبر مارکیٹ کی صورتحال نے بھی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لگ بھگ 29 فیصد کاروباری مالکان نے تصدیق کی ہے کہ انہیں اپنے اداروں میں موجود خالی اسامیوں کو بھرنے کے لیے موزوں اور ماہر ملازمین کی دستیابی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ افرادی قوت کی اس قلت اور بڑھتی ہوئی اجرتوں کی وجہ سے پیداواری صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور چھوٹے کاروباروں کو ٹیکسوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں کاروباری سرگرمیاں مزید سست ہو سکتی ہیں جس کے براہ راست منفی اثرات مجموعی ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع پر مرتب ہوں گے۔












