تہران (پاکستان نیوز)ایران میں حالیہ مہینوں کے دوران مبینہ طور پر دشمن قوتوں کے ساتھ تعاون کرنے اور جاسوسی کے الزامات کے تحت ٣ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر کے مطابق اب تک کل تین ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں سے ١٦٠١ افراد کے خلاف باقاعدہ فرد جرم عائد کی جا چکی ہے جبکہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے سینکڑوں غداروں کے مالی اثاثوں کی شناخت کر کے انہیں ضبط کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ ایران ماضی میں بھی اسرائیل سمیت دیگر معاند ممالک اور دشمن ریاستوں کے ساتھ سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت حکومت مخالف مظاہرین اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مئی کے مہینے میں ایرانی اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا۔ عالمی تنظیم کے مطابق ایرانی حکام جنگی حالات اور علاقائی کشیدگی کا بہانہ بنا کر اندرون ملک عوامی احتجاج اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وسیع پیمانے پر کی جانے والی یہ گرفتاریاں قانون کے منافی ہیں اور تیز رفتار عدالتی کارروائیوں میں انصاف کے تقاضوں کو مبینہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ملک میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے۔











