نیویارک (پاکستان نیوز)لاس اینجلس ٹائمز کے ارب پتی مالک پیٹرک سون شیونگ کی جانب سے اخبار کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی نظریات کی جانب موڑنے کے بعد سے ادارہ شدید مالی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اخبار کو نہ صرف قارئین کی بڑی تعداد سے محروم ہونا پڑا ہے بلکہ انتظامیہ ٹھیکیداروں اور دکانداروں کے واجبات کی ادائیگی میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اخبار اکثر اوقات اپنے بل ادا کرنے میں مہینوں تاخیر کر دیتا ہے اور کئی معاملات میں ادائیگی صرف اس وقت کی گئی جب معاملے کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا گیا یا قانونی کارروائی کی دھمکی دی گئی۔ مالی حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اخبار کے مالی امور کے سینئر نائب صدر ڈیکیٹر ہولکوم نے حال ہی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ادارے کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مالی بحران ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیٹرک سون شیونگ اخبار کو پبلک کرنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر تک فنڈز اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اخبار کی جانب سے معروف صحافی کیتھرین ہیرج کو بھرتی کرنے کے باوجود حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی، بلکہ مبینہ طور پر ان کے معاہدے کی ادائیگیوں میں بھی طویل تاخیر کی گئی، جسے ایک طویل قانونی جنگ کے بعد حل کیا جا سکا۔ اخبار کے ترجمان کا یہ موقف کہ ان کے زیادہ تر واجبات ادا کر دیے گئے ہیں، اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ اب بھی کچھ اہم بلوں کی ادائیگی باقی ہے۔ 144 سالہ پرانے اس اخبار کا مستقبل اس وقت سخت خطرے میں دکھائی دیتا ہے اور اس کے ارب پتی مالک کے لیے اپنی ساکھ اور مالی استحکام کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔










