نیویارک (پاکستان نیوز)امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے لانگ آئی لینڈ کے علاقے بیتھ پیج میں واقع ایک ساؤنڈ اسٹیج پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی، جسے سرکاری طور پر عوام کے ٹیکس کے پیسوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک ریلی کا نام دیا گیا تھا۔ تاہم اس تقریب کے دوران انہوں نے کانگریس کے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار مائیک لی پیٹری کی بھرپور حمایت کی اور انتخابی مہم چلائی۔ اپنے خطاب میں جے ڈی وینس نے ڈیموکریٹک رکن کانگریس ٹام سووزی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ملک کا بدترین رکن کانگریس قرار دیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے حق میں ووٹ نہ دیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی نئی کتاب کا اشتہار بھی پیش کیا۔ ریپبلکن قیادت اس نشست کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پرامید ہے جو ماضی میں جارج سینٹوس کے پاس تھی، جبکہ ٹام سووزی کو اس سیاسی معرکے میں فیورٹ تصور کیا جا رہا ہے۔ وفاق کے دیگر ملازمین کے برعکس، صدر اور نائب صدر کو ہیچ ایکٹ سے استثنیٰ حاصل ہے، جس کے باعث وہ انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں۔ جے ڈی وینس نے ٹام سووزی پر اندرونی تجارتی معلومات کا غلط استعمال کرنے اور اسٹاک مارکیٹ میں غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ جواب میں ٹام سووزی نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، لیکن نائب صدر کی جانب سے انتخابی مہم کے لیے 100000 ڈالر سے زائد کے سرکاری فنڈز استعمال کرنے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تقریب میں مائیک لی پیٹری اور گورنر کے ریپبلکن امیدوار بروس بلیک مین نے بھی خطاب کیا اور نیویارک کے میڈیکیڈ پروگرام میں بدعنوانی اور فضول خرچی کا دعویٰ کیا۔ دوسری طرف گورنر کی مہم کے ترجمان نے ریپبلکن قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس جارحانہ انتخابی خطاب اور اس پر ہونے والی سیاسی بحث کو مزید تفصیل سے دیکھنے کے لیے اکنامک ٹائمز کی یہ ویڈیو رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے، جس میں اس ریلی کے اہم مناظر اور ڈیموکریٹس پر کیے گئے حملوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔












