جیو نیوز پرمذہبی توہین آمیز مواد ؛ نشریات پر 15 روزہ پابندی اور عوامی ردعمل

0
3

اسلام آباد(پاکستان نیوز)محرم الحرام کے دوران جیو نیوز کی جانب سے ایک دستاویزی فلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کی نامناسب منظر کشی کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور اس اقدام کو ملکی قوانین اور مذہبی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد مختلف مکاتب فکر کے علمائ اور عوام نے فوری طور پر احتجاج ریکارڈ کروایا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ عوامی دباؤ اور مذہبی حلقوں کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے نوٹس لیتے ہوئے جیو نیوز کا نشریاتی لائسنس 15 دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چینل انتظامیہ کی جانب سے اپنے ادارتی نظام کو بائی پاس کر کے یہ مواد نشر کیا گیا جس پر نہ صرف علمائ بلکہ عام شہریوں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اگرچہ نشریات معطل ہونے کے بعد چینل نے وضاحت دینے کی کوشش کی تاہم یوٹیوب سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر لائیو سٹریمنگ جاری رکھنے کے عمل کو عوامی حلقوں نے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ بعد ازاں پی ٹی اے کی مداخلت کے بعد یوٹیوب پر بھی چینل کی رسائی محدود کر دی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید دور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بننے والے ایسے مواد کی روک تھام کے لیے ٹھوس ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ تمام میڈیا ادارے اپنی ادارتی جانچ کے عمل کو شفاف بنائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے مذہبی اشتعال سے بچا جا سکے اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here