واشنگٹن (پاکستان نیوز)سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونیوالے ہر بچے کا امریکی شہریت حاصل کرنا ایک پیدائشی اور آئینی حق ہے جسے کسی بھی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے اس متفقہ فیصلے نے ان تمام قیاس آرائیوں اور قانونی تنازعات پر مکمل طور پر خاموشی لگا دی ہے جو طویل عرصے سے تارکین وطن کی اولاد کی شہریت کے حوالے سے جاری تھے۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں سابقہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس ایگزیکٹو آرڈر کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے پیدائشی شہریت کے حق پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ فاضل جج صاحبان نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ امریکی آئین کی چودہویں ترمیم کے تحت جو بچہ بھی اس سرزمین پر جنم لیتا ہے وہ خود بخود امریکی شہری تصور کیا جائے گا اور اس حق کو محدود کرنے کا اختیار کسی حکومتی حکم نامے کو حاصل نہیں ہے۔ یہ فیصلہ ان لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک بڑی قانونی فتح ہے جو اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند تھے۔ قانونی ماہرین اسے قانون کی حکمرانی اور امریکی آئین کی بالادستی کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس فیصلے سے نہ صرف تارکین وطن کے بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی ہوا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی اس بحث کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا ہے۔














