سعودی اور یمن حوثی تنازع ؛پاکستان مشکل صورتحال سے دوچار

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ فضائی حملوں کے تبادلے نے خطے کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ صنعاء کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں کی جانب سے ابہا کے ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملوں نے اس عارضی جنگ بندی کو ختم کر دیا ہے جو سال 2022 سے قائم تھی۔ اس سنگین صورتحال نے پاکستان کے کردار کو ایک بار پھر بحث کا مرکز بنا دیا ہے کیونکہ اسلام آباد نے گزشتہ سال ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کسی بھی ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان کی جانب سے مئی کے مہینے میں 8000 فوجی، 16 جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام پہلے ہی سعودی عرب میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک انتہائی مشکل سفارتی اور عسکری پوزیشن میں پھنس چکا ہے۔ ماضی میں سال 2015 کے دوران پاکستان نے یمن کی جنگ میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا جس سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں سردمہری پیدا ہوئی تھی لیکن موجودہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو عسکری مداخلت پر مجبور کر سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان خود اس وقت متعدد داخلی مسائل کا شکار ہے جن میں بلوچستان میں شورش، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرے اور افغانستان کی سرحد پر مسلسل کشیدگی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی پاکستان براہ راست جنگ میں کودنے سے گریز کی پالیسی اپنا سکتا ہے لیکن ریاض کی جانب سے شدید دباؤ کی صورت میں پاکستان کے پاس پیچھے ہٹنے کا راستہ بہت محدود ہوگا۔ اگر حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرزمین پر حملوں کا سلسلہ تیز کیا تو اسلام آباد کے لیے اپنے عسکری وعدوں پر قائم رہتے ہوئے غیر جانبدار رہنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here