فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! خوشی کے مواقع پر خوشی ضرور منانی چاہئے کیونکہ خوشی انسان کا طبعی تقاضا اور فطری ضرورت ہے۔ دین فطری ضرورتوں کی اہمیت کو محسوس کرتا ہے اور کچھ مفید حدود و شرائط کے ساتھ ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ دین ہرگز پسند نہیں کرتا کہ انسان مصنوعی وقار، غیر مطلوب سنجیدگی ہر وقت مردہ دلی اور افسردگی سے اپنے کردار کی کشش کو ختم کردے۔ اسلام خوشی کے تمام مواقع پر خوشی منانے کا پورا پورا حق دیتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ انسان ہمیشہ بلند حوصلوں، تازہ ولولوں اور نئی امنگوں کے ساتھ تازہ دم رہے۔ جائز مواقع پر خوشی کا اظہار نہ کرنا اور خوشی منانے کو دینی وقار کیخلاف سمجھنا دین کے فہم سے محرومی ہے۔
انسان کو کسی دینی فریضے کو انجام دینے کی توفیق نصیب ہو۔ یا کوئی عزیز علم وفضل میں بلند مقام حاصل کرے اللہ تعالیٰ مال ودولت یا کسی اور نعمت سے نوازے۔ انسان کسی لمبے سفر سے بخیریت واپس آئے، کسی معزز مہمان کی آمد ہو، شادی بیاہ یا بچے کی پیدائش ہو، کسی عزیز کی صحت یا خیریت کی خبر ملے، کسی امتحان میں کامیابی ملے، اہل اسلام کے فتح ونصرت کی خبر ملے۔ اس طرح کے تمام مواقع پر خوشی منانا انسان کا فطری حق ہے۔ اسلام نہ صرف خوشی منانے کی اجازت دیتا ہے بلکہ اسے دین داری قرار دیتا ہے۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے میری توبہ قبول فرمالی اور مجھے خوشخبری ملی تو فوراً میں نبی کریمۖ کی خدمت میں پہنچا۔ میں نے جاکر سلام عرض کیا اس وقت نبی پاکۖ کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا اور نبیۖ کو جب بھی کوئی خوشی حاصل ہوتی تو آپۖ کا چہرہ مبارک اس طرح چمکتا کہ جیسے چاند کا کوئی ٹکڑا ہے اور ہم آپۖ کے چہرے کی رونق اور چمک سے سمجھ جاتے کہ آپ اس وقت انتہائی مسرور ہیں۔
نبی پاکۖ جب مدینے شریف تشریف لائے تو فرمایا: تم سال میں دو دن خوشیاں منایا کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں۔ یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ، لہذا سال کے ان دو اسلامی تہواروں میں خوشی اور مسرت کا پورا پورا مظاہرہ کریں اور مل کر ذرا کھلی طبیعت سے کچھ تفریحی مشاغل فطری انداز میں اختیار کرسکتے ہیں، اسی لئے ان دو دنوں کا روزہ رکھنا بھی حرام ہے۔
نبی پاکۖ کا فرمان عالی شان ہے کہ یہ ایام کھانے پینے، باہم خوشی کا لطف اٹھانے اور اللہ کو یاد کرنے کے ہیں۔(شرح معانی الآثار) خوشی منانے میں اسلامی اور اسلامی ہدایات و آداب کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔ جب بھی کوئی خوشی حاصل ہو تو سب سے پہلے خوشی دینے والے رب کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اس کے حضور سجدہ بجا لانا چاہئے، خوشی کے ہیجان میں ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے جو اسلامی مزاج کے خلاف ہو۔ مسرت کا اظہار کرنا چاہئے۔ لیکن اعتدال کا بہرحال خیال رکھنا چاہئے۔ مسرت کے اظہار میں اس قدر آگے نہ بڑھ جائے کہ فخر وغرور کا اظہار ہونے لگے اور نیاز مندی، بندگی اور عاجزی کے جذبات دبنے لگیں قرآن مجید میں ہے: ترجمہ: اور ان نعمتوں کو پا کر اترانے نہ لگو جو اللہ نے تمہیں دی ہیں۔ اللہ اترانے والوں اور بڑائی جتانے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اور خوشی میں ایسے سرمست بھی نہ ہو جانا چاہئے کہ اللہ کی یاد سے غافل ہوجائے۔
مومن کی خوشی یہ ہے کہ وہ خوشی دینے والے کو اور زیادہ یاد کرے۔ اور اپنے عمل وگفتار سے اللہ کے فضل وکرم اور عظمت وجلال کا اور زیادہ اظہار کرے۔ کسی کی شادی ہو یا کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو یا اسی طرح کی اور کوئی خوشی حاصل ہو تو خوشی میں شرکت کرنی چاہئے اور مبارک دینی چاہئے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمۖ جب کسی کے نکاح پر اس کو مبارک دیتے تو یوں فرماتے:ترجمہ: اللہ تمہیں خوش حال رکھے اور تم دونوں پر برکتیں نازل فرمائے اور خیروخوبی کے ساتھ تم دونوں کا نباہ کرے۔ ایک بار حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کسی کو بچے کی پیدائش پر مبارک دینے کا طریقہ سکھاتے ہوئے فرمایا کہ یوں کیا کرو۔ ترجمہ: اللہ تمہیں اپنے اس عطیے میں برکت دے اور خیر دے۔ اپنی شکر گزاری کی تمہیں توفیق دے۔ بچے کو جوانی کی بہاریں دکھائے اور اس کو تمہارا فرما نبردار بنا کر اٹھائے۔ جب کوئی لمبے سفر سے خیریت سے واپس آئے تو خوشی کریں تو اسراف فضول خرچی سے بچیں ۔نبی پاکۖ جب غروہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو مسلمان مرد اور بچے آپۖ کے استقبال کیلئے ثنیتہ الوداع ٹیلے تک پہنچے اور جب نبی پاکۖ ہجرت کرکے تشریف لائے تھے تو بھی مسلمان مرد، عورتیں، بچے اور بچیاں سب ہی آپۖ کا خیرمقدم کرنے کیلئے نکل آئے تھے اور انصار کی بچیاں خوشی میں پڑھ رہی تھیں۔ ترجمہ: آج ہم پر چودھویں کا چاند طلوع ہوا ،ثنیات الوداع سے ہم پر شکر واجب ہے اس دعوت وتعلیم کا جو داعی نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا! اے ہمارے درمیان بھیجے جانے والے رسول! آپ ایسا دین لائے ہیں جس کی ہم اطاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقائق کو سمجھنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭












