قلم قبیلہ بزرگان کے مسائل !!!

0
2
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

سید کاظم رضا نقوی کی جانب سے تمام قارئین کرام کی خدمت میں سلام پہنچے۔ یہ تحریر اس آنے والے وقت کا اظہار خیال ہے جس کا عموماً انسان نے پہلے سے سوچا نہیں ہوتا۔ یعنی ریٹائرمنٹ کی عمر اور اس کے بعد پیش آنے والے مختلف مسائل۔ جب یہی مسئلہ خواتین کو جھیلنا پڑے تو ان ہی کی زبانی اور ذہن میں آنے والے خدشات و گزارشات سے آراستہ یہ تحریر قارئین کے لیے ایک گراں قدر مواد فراہم کرتی ہے۔ تحریر کے اختتام پر احقر کی اپنی رائے بھی پیش کی جائے گی۔ قلم قبیلہ کے نامور قلمکاروں کے مسائل اور ان کے سدباب کا ذکر ان ہی کی زبانی درج ذیل متن میں شامل ہے جو ان کی ٹائم لائن سے لیا گیا ہے۔
افروز رضوی صاحبہ لکھتی ہیں کہ ان کی کچھ خواتین دوست جو انتہائی تعلیم یافتہ، سلجھی ہوئی اور عمدہ لکھاری ہیں، جن میں سے کچھ پاکستان میں اور کچھ بیرون ملک مقیم ہیں، ان سے اکثر گفتگو رہتی ہے۔ بات چیت کے دوران انہوں نے تذکرہ کیا کہ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے گزر چکا ہے۔ ان سبھی نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک بہترین وقت گزارا اور بچوں کی تربیت اور پرورش بہت اچھے انداز میں کی۔ تاہم یہ حقیقت سب کے علم میں ہے کہ بہت سے لوگوں کے بچے اب ملازمت کی مجبوریوں یا شادی کی ذمہ داریوں کے باعث اپنے والدین یا سنگل ماں باپ کے ساتھ نہیں رہ پاتے۔ دوسری جانب وہ ماں یا باپ جو اب تنہا ہیں، انہیں بھی ایک اچھے ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ اچھے موضوعات پر گفتگو کر سکیں، ساتھ بیٹھ کر چائے پی سکیں، کسی ریستوران میں کھانے پر جا سکیں، گھومنے کا پلان بنا سکیں یا عمرہ و حج پر جا سکیں۔ گو کہ وہ یہ تمام امور اپنے سابقہ ساتھی کے ساتھ کر چکے ہوں گے، مگر زندگی کو کسی موڑ پر جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تحرک ہی میں زندگی ہے۔ اس پر میں نے انہیں مشورہ دیا کہ چونکہ وہ لکھتی ہیں اور ادبی محافل میں شرکت کرتی ہیں، اس لیے انہیں اچھی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے اور دوستوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی پروگرام بنانا چاہیے۔ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب تو کرتی ہیں، لیکن جب واپس گھر آتی ہیں تو پھر در و دیوار ہی تکنا پڑتے ہیں، اسی لیے وہ سوچتی ہیں کہ گھر میں کم ہی رہا جائے۔ یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کا ہے، خصوصاً اس دور میں جب زیادہ تر لوگوں کی اولادیں بیرون ملک منتقل ہو چکی ہوں اور ملک کے حالات بھی کچھ ایسے نہیں کہ وہ جلد واپس آئیں۔ تنہا ماں یا باپ بھی ان کے پاس جا کر آخر کب تک رہ سکتے ہیں۔ بیرون ملک اور پاکستان میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ لوگ اپنی زندگی اپنے بل بوتے پر عزت کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں اور کسی پر بوجھ بننا گوارا نہیں کرتے۔ لہٰذا ایسے افراد کے لیے کسی ایسے منصوبے کی ضرورت ہے جس میں ان کا وقت کسی تعمیری کام میں بھی گزر جائے اور ان کی تنہائی کا تدارک بھی ہو سکے۔ آپ سب بھی مشورہ دے سکتے ہیں کہ ایسا کیا کام شروع کیا جا سکتا ہے جس سے ان کو معقول آمدن بھی حاصل ہو، تعمیری سرگرمی بھی میسر آئے اور تنہائی کا خاتمہ بھی ہو سکے۔
اس تحریر کے جواب میں لبنیٰ عابدی صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ افروز رضوی صاحبہ سے حال ہی میں کراچی میں ملاقات ہوئی جو بہت خوشگوار رہی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں شروع ہی سے وہ تمام کام کیے جو وہ جانتی تھیں اور انہیں دوسروں تک پہنچایا۔ نوجوانی میں ایک ٹیوشن سینٹر قائم کیا اور اپنے گھر کے بچوں کے ساتھ ساتھ محلے کے بچوں کو بھی پڑھایا۔ بعد ازاں سلائی کٹھائی کا ہنر آنے کی وجہ سے اپنے ہی گھر میں ایک ووکیشنل اسکول قائم کیا اور ان بچیوں کو مفت سلائی سکھائی جو زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر پا رہی تھیں۔ آج وہ تمام بچیاں اپنا روزگار کما رہی ہیں۔ اس کے بعد بیوٹیشن کے شوق کے تحت پورا کورس کیا اور گھر میں بیوٹی پارلر قائم کر کے ان بچیوں کو مفت تربیت دی جو فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ تمام بچیاں بھی آج اپنے اپنے علاقوں میں پارلر بنا کر رزق حلال کما رہی ہیں۔ اب اپنی بیٹی کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے کورسز کروائے ہیں اور جلد ہی اپنے گھر میں ان بچیوں کے لیے مفت آئی ٹی سینٹر کھولنے کا ارادہ ہے جو بھاری فیسیں ادا نہیں کر سکتیں۔ یہ ضروری نہیں کہ انسان صرف اپنی ہم عمر خواتین یا افراد کے لیے ہی کچھ کرے، کم سن اور جوان بچیوں کے درمیان رہ کر انسان خود کو متحرک محسوس کرتا ہے اور دل بھی لگا رہتا ہے۔ ارد گرد کے لوگوں کے مسائل دیکھ کر اپنی حیثیت اور ہمت کے مطابق رقم جمع کی جاتی ہے اور مل بیٹھ کر کسی ایسے شخص کی مدد کی جاتی ہے جس کا کوئی سہارا نہ ہو۔ آٹھ دس خواتین مل کر میٹنگ کرتی ہیں اور طے کرتی ہیں کہ کس شخص کی کیا مدد کی جا سکتی ہے، جیسے کسی کو ریڑھی یا چھابہ لگوا کر دینا۔ ان فلاحی کاموں سے دلی سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے وہ مشاعروں اور موسیقی کے پروگراموں میں بھی شرکت کرتی ہیں۔ گھر میں ایک چھوٹا سا اسٹوڈیو بنایا ہوا ہے جہاں سے یوٹیوب چینل چلایا جاتا ہے اور نئے نعت خوانوں یا نوحہ خوانوں کو بلا معاوضہ ریکارڈنگ کی سہولت فراہم کر کے انہیں پروموٹ کیا جاتا ہے۔ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرنے سے دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور خالق بھی راضی ہوتا ہے۔
جاوید مغل صاحب نے اس موضوع پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ فلاحی کاموں کی انجام دہی کے لیے متعدد بار انجمنوں، کمیٹیوں، محلہ جات اور درس و تدریس کے اداروں میں جسمانی و مالی معاونت فراہم کی گئی، مگر بیشتر امور محض زبانی کلامی ثابت ہوئے۔ جب عطیات اور گرانٹ کی رقوم پر سوالات اٹھائے گئے تو جوابات غیر تسلی بخش ملے۔ اس کے نتیجے میں اربابِ اختیار اور کمیٹی کے ارکان نے الزامات عائد کرنا شروع کر دیے کہ انتشار پھیلایا جاتا ہے اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر رکنیت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ ان کا مشورہ یہی رہا کہ انسان کو اپنے آپ کو بدلنا چاہیے، زیادہ سوچنے سے گریز کرنا چاہیے اور دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔ اسی لیے اب وہ اپنے طور پر جتنی خدمات یا حقوق العباد کی ادائیگی ممکن ہو سکتی ہے، کر رہے ہیں۔ بعض اوقات اپنے اندر کے جذبات اور احساسات کا اظہار کرنے کا دل چاہتا ہے، لیکن سامنے والے کے طرزِ زندگی اور فکر کی سطح کو دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کر لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شاید بہت سے افراد اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں لیکن وہ خاموش تماشائی بنے زندگی بسر کر رہے ہیں۔
انسانی زندگی کے حوالے سے احقر کی ذاتی رائے یہ ہے کہ انسان عمر کے کسی بھی حصے میں تخلیقی کام کر سکتا ہے اور دیگر انسانوں کے کام آ سکتا ہے، جس کا تمام تر انحصار انسان کی اپنی صلاحیت اور ارادے پر ہوتا ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی آرائ سے ضرور مطلع کریں۔ دعا ہے کہ ہر انسان کو اس دنیا میں اچھا جیون ساتھی نصیب ہو اور اس کا آخری وقت سکون کے ساتھ اپنے پیاروں کے درمیان گزرے۔ وقتِ آخر پر لواحقین اس کی جائیداد و اثاثوں کی فکر میں جمع ہونے کے بجائے اس کی تیمارداری، داد رسی، اور اس کی زندگی کے اچھے کاموں کا شکریہ ادا کرنے اور خطاؤں کو درگزر کرنے آئیں تاکہ انسان اس دنیا سے خوشی خوشی رخصت ہو سکے۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here