ہمارے گزشتہ کالم شکوہ ارباب وفا پر پاکستانی نژاد اورسیز پاکستانی نعیم احمد نے اپنے تبصرے میں پاکستانی مسائل کے حوالے سے ہمارے کالم کو دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف قرار دیا، ہم ان کے مشکور ہیں۔ درحقیقت ہمارا مذکورہ کالم پاکستان کے معروضی حالات، وطن عزیز کی ریاست، حکومت اور سیاسی اشرافیہ کے باہمی اختلافات اور مخامصمت پر مصور پاکستان علامہ اقبال کے شکوہ سے خصوصاً خطے اور عالمی حوالوں سے شکوے پر ہی مبنی تھا۔ افسوس امر پر ہے کہ صورتحال وقت گزرنے کیساتھ مزید بگڑ ہی رہی ہے، اتفاق و اتحاد کے برعکس مفاداتی مقاصد کے تناظر میں اختلاف و تہمت طرازی کا سلسلہ اس حد تک وسیع ہو چکا ہے جہاں ذمہ داری اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا احتمال بڑھتا جا رہا ہے۔ وطن عزیز میں بلوچستان، کے پی اور آزاد کشمیر کے بد امنی و شورش کے دشمن قوتوں کی مدد سے اندرونی آلۂ کاروں کے اقدامات تو ایک طرف خود وطن کے مقتدرین، سیاسی مخالفین کے درمیان دشمنی کی حد تک منفی کردار پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے سوال بن چکا ہے۔ شہداء و محافظین وطن اور پاکستان و بھارت محاذ آرائی کے حوالے سے منفی مؤقف و بیانات ہر گز وطن دوستی نہیں ہو سکتے، مفادات کے حصول کا ذریعہ ضرور بنتے ہیں اور قومی وحدت کیلئے سد راہ بنتے ہیں۔
جہاں تک بلوچستان، آزاد کشمیر اور کے پی میں دہشت گردی اور شورش و بدامنی کا تعلق ہے اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ بھارت، افغان طالبان اور اسرائیل کے سلیپر سیلز کے ذریعے حالات اس حد پر لے جائے جا رہے ہیں جہاں پاکستان کو تقسیم کر دیا جائے بلکہ اس سچائی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ دانستہ یا نادانستہ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار اور سیاسی اشرافیہ اپنے مفادات و مخالفانہ عمل کے سبب پاکستان کے عدم استحکام و بے امنی کے ذمہ دار بنتے ہیں اور اس کھیل میں فریقین کیلئے منقسم میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا مزید خلیج وسیع کرنے میں مصروف ہے۔ موجودہ صورتحال جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس کا مداوا صرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تمام فریق ذاتی مفادات و اختلاف سے بالا تر ہو کر وطن پرستی، مفاہمت اور اجتماعیت کا عملی مظاہرہ کریں۔ موجودہ صورتحال کا ماخذ کون ہے ایسا سوال ہے جس کا جواب ان مقتدرین کے پاس ہے جو سات دہائیوں سے سیاہ و سفید کے مالک ہیں اور وطن عزیز کی سلامتی و تحفظ کے امین ہیں۔
موجودہ حالات میں ایک جانب دشمنوں کی سرگرمیاں ہیں تو دوسری طرف مقتدرہ اور سیاسی برز جمہروں کے درمیان متنازعہ سلسلہ بڑھ رہا ہے اور نوبت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ شہدائے وطن کی عظمت و حرمت اور وطن عزیز کی دشمن پر فتح کو ملی بھگت قرار دے کر داغدار قرار دیا جا رہا ہے۔ اب یہ کیوں ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ وضاحت کی ضرورت نہیں البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اغراض کے پردے میں اپنی اہمیت جتانے کی کوشش ہے جو ملک کی وحدت و عوام کے اتحاد کیلئے زہر قاتل ہے۔ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے خواجہ مہران وغیرہ اگر کشمیر کے پاکستان سے الحاق کیخلاف بھارت کا مہرہ بنا ہوا ہے۔ 27 جولائی کے حوالے سے محض الیکشن جیتنے کی غرض میں بلاول زرداری حکومتی شراکت دار ہونے کے باوجود فسادیوں سے مذاکرات پر مصر ہیں بلکہ مولانا حکومتی راہداریوں سے محروم ہونے کے غم میں مقتدرہ، شہداء کے ناطے احتجاج و کینہ پروری میں مبتلا ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس عدم استحکام کا مداوا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم نے گزشتہ سطور میں عرض کیا ہے کہ وطن عزیز کے مقتدرین کئی دہائیوں سے سیاہ و سفید کے مالک ہیں اور سلامی و تحفظ کے امین ہیں، اب یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ وہ امن و ثالثی کیلئے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں، (یہ الگ بات ہے کہ ایران و امریکہ ضد بلکہ اسرائیل دشمنی کے ناطے معاہدہ اسلام آباد مقطع میں آپڑا ہے) تو آخر کیا قباہت ہے کہ مقتدر اعلیٰ آگے بڑھ کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرنے کا اقدام کریں اور وطن کے تحفظ کی خاطر سرحدوں پر کامیابی کیساتھ دلوں پر بھی حکمرانی و کامیابی کمائیں۔ بلا شبہ سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ باہم مذاکرات و صلح جوئی سے ممکن ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ مقتدرہ و سیاسی اشرافیہ کے درمیان ذاتی پرخاش ہر گز نہیں، سیاسی افتراق و تنازع باہمی گفت و شنید اور مصالحت سے حل ہو سکتا ہے اور یہی ملکی وحدت و عوام کی بہتری کا ذریعہ ہے۔ بقول ہمارے ساتھی انور رومی!
صلح جوئی ہو، محبت ہو، رواداری ہو
زندہ قوموں کی ہوا کرتی ہے تصویر الگ
٭٭٭٭٭٭













