قبلہ درست!!!

0
2
عامر بیگ

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں افواہیں، قیاس آرائیاں اور پسِ پردہ ہونے والی سرگرمیاں اصل سیاسی بحث پر غالب آ چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مختلف دعوے، ممکنہ طویل المدتی سیٹ اپ کی باتیں اور مصر کے ماڈل سے مماثلت رکھنے والے اندازوں نے سیاسی ماحول کو شدید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ملک میں اعتماد کا بحران گہرا ہو چکا ہے اور اسی تناظر میں تمام بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے رابطوں میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ایک مرتبہ پھر سیاسی مفاہمت اور ممکنہ اتحاد کے لیے مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، شاید اسی لیے وہ کریز سے آگے نکل کر مسلسل جارحانہ سیاست کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں مولانا کے کردار پر اگرچہ مختلف سوالات اٹھائے جاتے ہیں، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ ہمیشہ ایک ایسے سیاست دان رہے ہیں جو مختلف الخیال قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے سیاسی منصب کو درپیش خطرات اور تحفظات کے پس منظر میں بھی مولانا ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ آئینی و سیاسی توازن میں ان کی حیثیت خاصی اہم ہو چکی ہے۔ تاہم یہ تمام باتیں فی الحال تجزیوں اور سیاسی اندازوں کی حد تک محدود ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی غیر منتخب قوتیں ریاستی معاملات میں طویل عرصے تک غالب رہیں، سیاسی جماعتوں نے بعد ازاں متحد ہو کر تحرک دکھایا، مزاحمت کی اور جمہوری بالادستی کا مطالبہ کیا۔ کبھی یہ عمل ایم آر ڈی کی صورت میں سامنے آیا، کبھی میثاقِ جمہوریت کی شکل میں اور کبھی کسی نئے سیاسی بیانیے کے ذریعے، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم بار بار اسی ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے یا اس سے آگے بھی بڑھ سکیں گے؟ اس وقت ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کا حقیقی آزادی کا بیانیہ اب صرف ایک جماعت کا نعرہ نہیں رہا بلکہ مختلف سیاسی حلقے، خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن، اسے اپنی تعبیر کے مطابق پیش کر رہے ہیں۔ اس بیانیے میں اتنی وقعت اور اثر ہے تبھی تو اسے عوام میں بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ اگر حقیقی آزادی کا مطلب واقعی یہ ہے کہ ملک میں کسی بھی غیر منتخب طاقت کی بالادستی ختم کی جائے، تو پھر اس اصول کا اطلاق ہر دور اور ہر حکومت پر یکساں ہونا چاہیے۔ جمہوریت کی روح یہی ہے کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوں اور حکومت کرنے کا حق صرف انہی نمائندوں کو حاصل ہو جنہیں عوام اپنے ووٹ سے منتخب کریں۔
بندوق کا مقصد ریاست کا دفاع ہے، ریاست چلانا نہیں۔ آئینِ پاکستان بھی یہی کہتا ہے کہ اقتدار کا اصل منبع عوام کی رائے ہے۔ اگر اس بنیادی اور مسلمہ اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان کی بہت سی سیاسی الجھنیں اور بحران خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ذاتی مفادات، وقتی سیاسی فائدے اور اقتدار کی کشمکش سے بلند ہو کر ایک ایسے قومی بیانیے پر متفق ہوں جس کی بنیاد آئین، پارلیمان اور عوامی حاکمیت پر ہو۔ اگر واقعی قبلہ درست کرنا مقصود ہے، اگر واقعی حقیقی آزادی کی طرف مولانا کی پیش بندی مصنوعی نہیں اور اگر ان کی شعلہ بیانی مقتدرہ کے کسی آنے والے منصوبے کا حصہ نہیں ہے، تو اس کا آغاز اسی اصول سے ہوگا کہ فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ کے مطابق کیے جائیں۔ اگر اس مقصد کے لیے مولانا فضل الرحمٰن مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں تو یہ ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر آنی چاہیے۔ پاکستان کی بقا، استحکام اور ترقی اسی میں ہے کہ طاقت کا مرکز بندوق نہیں بلکہ ووٹ ہو اور ریاست کا اصل مالک وہ عوام ہوں جن کے نام پر ہر ادارہ اور ہر حکومت وجود میں آتی ہے۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here