کشمیری اور پاکستانی امریکنز !!!

0
4
کوثر جاوید
کوثر جاوید

پاکستانی اور کشمیری امریکنز امریکا کی تعمیر و ترقی اور تمام اہم شعبوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب ان کی تیسری نسل بھی سامنے آ چکی ہے۔ کئی پاکستانی اہم عہدوں پر فائز ہیں اور انہوں نے کامیا ب کاروبار قائم کر کے نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔ تاہم یہ تمام ترقیاں اور کامیابیاں زیادہ تر انفرادی سطح پر ہیں اور اجتماعی طور پر پاکستانی و کشمیری برادری کو وہ مقام حاصل نہیں ہو سکا جو ہونا چاہیے تھا۔ امریکی سیاست میں عملی طور پر متحرک ہونے کے بجائے اکثر لوگ پاکستان کی روایتی اور دقیانوسی سیاست میں الجھے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس دیگر ممالک سے آئے ہوئے تارکینِ وطن نے سنجیدہ جدوجہد کے ذریعے امریکی نظام میں اپنا ایک مضبوط سیاسی اور سماجی مقام بنا لیا ہے۔ امریکا ایک ایسا ملک ہے جہاں کسی بھی شعبے میں محنت اور جدوجہد کے ذریعے بلند ترین مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی امریکنز عرصے تک مختلف سیاسی پارٹیوں کی دھڑے بندیوں میں تقسیم رہے، لیکن جب پاکستان تحریکِ انصاف کا آغاز ہوا تو اوورسیز پاکستانیوں نے اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی۔ انہوں نے عمران خان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ ایک دیانتدار، دلیر اور تعلیم یافتہ رہنما ملک کی قیادت کر رہا ہے۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا، ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے اور اقوامِ متحدہ کے فورم پر پاکستان اور مسئلہ کشمیر کی بھرپور نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ کرونا وبا کے دوران شاندار کارکردگی، صحت کارڈ کا اجراء ، لنگر خانے، پناہ گاہیں، کسانوں کو سہولیات کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر اوورسیز پاکستانیوں کا پاکستان کے نظام پر اعتماد بحال کرنا ان کے نمایاں اقدامات تھے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو بھی عالمی سطح پر جرات کے ساتھ اٹھایا۔
تاہم بعد میں حالات نے رخ بدلا اور عمران خان کی حکومت ختم کر دی گئی، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات اور قید کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی کے ساتھ کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی پامالی کے مسائل میں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال میں بعض ایسے عناصر جو ماضی میں مفادات سے وابستہ تھے، اپنے ذاتی مفادات کے لیے مختلف صفوں میں شامل ہو گئے اور ان نظریات سے دور ہوتے چلے گئے۔ دوسری جانب کچھ ایسے کشمیری رہنما بھی سامنے آئے جو طویل عرصے سے مسئلہ کشمیر کے نام پر اپنی سیاست چمکا رہے تھے مگر ان کا حقیقی کردار واضح ہو گیا۔ ان کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں اور سرگرمیوں میں لوگوں کی تعداد ہمیشہ انتہائی محدود رہی۔
ہم نے اپنی تحریروں یا بیانات میں کبھی پاکستان کی سلامتی یا افواج کے خلاف بات نہیں کی، بلکہ ہمیشہ اصولوں اور انسانی حقوق کی بات کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ جعلی نمائندوں اور خود ساختہ مشیروں کی حقیقت کمیونٹی کے سامنے لائی جائے۔ اس وقت جو عناصر مظلوم کے بجائے مفاد پرستی کا ساتھ دے رہے ہیں، ان کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمارا قلم اور آواز سچائی کا ساتھ دیتے رہیں گے اور اصل و نقل کا فرق واضح کرتے رہیں گے۔
اسی طرح پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر بھی موجود مفاد پرست ٹولے اور ناکارکردگی دکھانے والے عہدیداروں کی نشاندہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ احتجاج میں پارٹی کے اندرونی اختلافات واضح طور پر نظر آئے، اور شرکائ کی کم تعداد اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ تنظیم کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی امریکا کے عہدیداروں اور کارکنان سے گزارش ہے کہ وہ آپسی اختلافات کو بھلا کر عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ جدوجہد پر توجہ دیں۔ اس جدوجہد میں ڈاکٹر شہباز گل کا کردار انتہائی اہم اور تاریخی ہے، اور ان کی متحرک قیادت کی وجہ سے اوورسیز پی ٹی آئی میں تحرک نظر آتا ہے۔ پاکستانی صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو بھی ان کے معروضی اور باہم معلوماتی اندازِ گفتگو سے سیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ جس انداز سے سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کے محاذ پر جرات سے اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔ حسد کے بجائے ان کا دست و بازو بن کر تمیز، اخلاقیات اور ڈسپلن کے ساتھ سیاست کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ چند گزارشات پی ٹی آئی امریکا کے کارکنوں اور قیادت کے لیے ہیں، کیونکہ پارٹی رہنماؤں کے درست سمت میں آنے کے امکانات موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف مفاد پرست جعلی نمائندوں اور خود ساختہ مشیروں کے درست راستے پر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے سچی اور جھوٹی قیادت کا فرق واضح کرنے کا یہ سفر جاری رہے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here