مولانا مودودی رحمہ اللہ اور ایوب خان مرحوم کی ایک ملاقات کی جھلک تاریخ کے جھروکوں سے سامنے آتی ہے۔ مولانا ایوان صدر میں ایوب خان کے دفتر پہنچے تو کچھ دیر ایوب خان نمائشی طور پر کاغذات الٹ پلٹ کرتا رہا اور مولانا خاموشی سے بیٹھے رہے۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان مکالمہ شروع ہوا۔ ایوب خان نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آپ تو علمی شخصیت ہیں آپ سیاست کے گندے میدان میں کیوں آگئے۔ اس پر مولانا نے جواب دیا کہ کیا آپ کے خیال میں اس میدان کو گندہ ہی رہنے دیا جائے۔ ایوب خان نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب آپ کی کئی کتابیں میں نے پڑھی ہیں اور واقعی آپ نے دین کی بہت خدمت کی ہے۔ مولانا نے اس پر شکر گزار ہوتے ہوئے فرمایا کہ یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ وہ اپنے اس بندے سے کوئی کام لے رہا ہے۔
ایوب خان نے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب میری ایک تجویز ہے کہ آپ جیسی علمی شخصیت کو اپنی عمدہ صلاحیتیں سیاست میں ضائع کرنے کے بجائے ان سے قومی تعمیر کا کوئی ٹھوس کام لینا چاہیے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم ملک کے اندر ایک شاندار اسلامی یونیورسٹی قائم کریں۔ اس یونیورسٹی کی سربراہی کے لیے آپ کا نام میرے ذہن میں آیا ہے۔ یونیورسٹی کے لیے ہم نے دو کروڑ کا جو ابتدائی فنڈ مختص کیا ہے وہ رقم اور حکومت کی طرف سے ملنے والی تمام گرانٹ پر آپ کو اپنی صوابدید کے مطابق مکمل تصرف کا اختیار ہوگا اور آپ کو قانوناً آڈٹ وغیرہ کی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔
مولانا نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا کہ مجھے اپنی زندگی کو صرف اپنے خالق کی رضا کے مطابق صرف کرنا ہے۔ اس کی رضا یہی ہے کہ اس کا بندہ ہونے کی حیثیت سے مجھے اس دین کے عملی نفاذ کے لیے اس سرزمین میں سر دھڑ کی بازی لگا دینی چاہیے جس دین کو خالق نے اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔ آپ اس ملک میں اسلامی نظم مکمل صورت میں نافذ کر دیجیے۔ اس کے بعد ایک چپراسی کا عہدہ بھی پیش کریں گے تو میں اسے سعادت سمجھوں گا لیکن اگر یہاں حکمرانی کا موجودہ چلن ہی جاری رکھنا چاہیں تو نائب صدر کا عہدہ بھی پیش کریں تو میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے اور میں اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔
صدر ایوب خان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے مولانا صاحب لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ انکار کی صورت میں آپ کا انجام کیا ہوگا۔ اس پر مولانا نے بے باکی سے جواب دیا کہ مجھے خوب معلوم ہے صدر صاحب جس روز میں نے اپنے موجودہ مقصد زندگی کو اپنایا تھا اسی روز سے مجھے معلوم ہے کہ اس مقصد سے وابستگی رکھنے والوں کے لیے دنیا والے کس انجام کے درپے ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ لالہ صحرائی کی تحریر سے قومی ڈائجسٹ کے توسط سے منقول ہے۔
٭٭٭












