عالمِ انسانیت کے معاملات طے ہوتے ہوتے اگر نوبت جنگوں کی قتل و غارتگری تک پہنچ جائے تو اس کا مطلب یہی سمجھا جاتا ہے کہ طاقتور یا گاؤں کے چوہدری کا قائم کیا ہوا نظام خطرے میں ہے اور کچھ نہ کچھ تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ جنگ کا ایک فریق اور قتل و غارتگری کرنے والا اگر چوہدری خود ہو تو پھر تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب تو پورا عالمگیر نظام ہی ناکام ہو کر شکست خوردہ ہو چکا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر مکمل تبدیلیِ نظام کی اشد ضرورت ہے۔ پریم رنگ پوری تو کہہ چکے ہیں کہ!
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
یہ دنیا ہے یا کارواں کیسے کیسے
بہاریں بھی آئیں خزائیں بھی آئیں
بدلتے ہیں رنگِ جہاں کیسے کیسے
ستر کی دہائی تھی اور ہمارے ہائی اسکول کا زمانہ، اْس وقت کی دنیا کا عالمگیر نظام دو عظیم طاقتوں پر مشتمل تھا۔ دونوں طاقتیں بظاہر بالکل ناقابلِ تسخیر نظر آتی تھیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے، اس وقت کی ایک عظیم طاقت سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کردی۔ جن افغانوں کو دو تین دنوں کے اندر اندر اس عظیم طاقت نے شکست دینی تھی وہ دس سال تک بھی تسخیر نہ ہوسکے اور سویت یونین جیسی عظیم سلطنت معاشی بدحالی کا شکار ہوکر اپنے ٹکڑے ٹکڑے کروا بیٹھی۔ اِن دنوں ایک اور عظیم طاقت، وہی تاریخ دہرانے پہ تلی ہوئی ہے۔ خلیج کی جنگ طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے اور اس طاقت کی معیشت کے حالات دگرگوں ہیں۔ دنیا کے حالات و واقعات کی اسی طرح کی پیچیدگیاں دیکھ کر ہی غالب نے کہا تھا کہ!
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
اسلامی جمہوریہ ایران کو تر نوالہ سمجھ کر دنیا کی واحد عظیم طاقت نے جنگ اور قتل و غارتگری کا آغاز تو آسانی سے کردیا لیکن اب اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنا اس کیلئے مشکل ہورہا ہے۔ پیٹرول و ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اشیائے خورد و نوش اور دیگر مصنوعات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ عام آدمی کی قوتِ خرید اب اتنی دگرگوں ہوتی چلی جا رہی ہے کہ اس کے اپنے ووٹ دینے کی بڑی وجہ ہی معاشی حالت بن چکی ہے۔ عسکری صنعتی اتحاد اور اشرافیہ اپنا پورا زور لگا کر ایران کی جنگ اپنی شکست کے بغیر ختم کرنا چاہتی ہے لیکن اب یہ اتنا آسان نظر نہیں آرہا کیونکہ ایرانی تو لوہے کے چنے ثابت ہو رہے ہیں۔ جگر مرادآبادی نے شاید ایران جیسی قوم کے بارے میں ہی کہا تھا کہ!
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 1946 کو سیالکوٹ کی ایک تقریب میں فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب اشتراکیت کو ماسکو میں پناہ نہیں ملے گی اور سرمایہ دارانہ نظام واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہو گا۔ اسی سال پہلے کہی جانی والی یہ بات صرف سید مودودی ہی کرسکتے تھے لیکن اب عام لوگ جو اشتراکیت کا خاتمہ دیکھ چکے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام کی گرتی ہوئی لرزاں دیواروں کا ارتعاش محسوس کر سکتے ہیں۔ اشتراکیت کو ختم کرنے کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں امتِ مسلمہ کے حصے میں آئی تھیں اور آج سرمایہ داری نظام کے خاتمے کیلئے بھی مسلم دنیا ہی سربکف ہے۔ انسان کو انسان کی غلامی سے آزاد کروانے کی ذمہ داری بھی تو آخر محمد رسول اللہ کی امت نے ہی قبول کی تھی۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں











