یوں ہی وقت سو سو کے ہیں جو گنواتے
وہ خرگوش کچھوؤں سے ہیں زک اٹھاتے
حیلولہ کا معنی نمازِ فجر کے بعد یا نمازِ فجر کے وقت کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے سوئے رہنا ہے۔ اس سونے کو عربی میں حیلولہ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ انسان اور اس کے رزق کے درمیان رکاوٹ بنتا ہے کیونکہ یہ وقت اللہ کی طرف سے رزق کی برسات اور تقسیم کا ہوتا ہے۔ ترمذی شریف میں روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے صبح کے اوقات میں برکت کی دعا ان الفاظ کے ساتھ فرمائی ہے کہ اے اللہ میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔
قیلولہ نمازِ ظہر کے بعد یا اس سے پہلے آدھے گھنٹے یا کم و بیش کے لیے آرام کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ عمل ایک عبادت بھی ہے، خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے اور صحت کا ذریعہ بھی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ شعب الایمان میں روایت نقل کرتے ہیں کہ دن کو سونے کے ذریعے رات کو عبادت کی طاقت حاصل کیجیے۔ شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم نور اللہ مرقدہ کا ارشاد ہے کہ عام دنوں میں نمازِ ظہر سے پہلے کھانا اور قیلولہ ہونا چاہیے جبکہ جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے بعد کھانا اور آرام ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ قول امام بخاری نے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام نمازِ جمعہ کے بعد سوتے اور کھانا کھاتے تھے۔ شیخ مکرم رحمہ اللہ کا ہمیشہ یہی معمول رہا ہے، سوائے اس کے کہ کبھی مہمانوں کی آمد یا کوئی اور عذر حائل ہو جائے۔
عیلولہ کا مفہوم عصر کی نماز کے بعد آرام کے لیے لیٹنا ہے۔ یہ عمل جسمانی و تنفس کی بیماریوں اور سینے کی تنگی کا سبب بنتا ہے، اسی لیے اس وقت سیر و تفریح، ہلکے پھلکے کام، ذکر و فکر اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ شیخ مکرم اس امر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ احادیث کے مطابق یہ وقت دونوں قسم کے فرشتوں کے اجتماع کا ہوتا ہے، جہاں رات والے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور دن والے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان فرشتوں نے بارگاہ الٰہی میں یہ رپورٹ پیش کرنی ہوتی ہے کہ بندوں کو عبادت میں مشغول چھوڑ کر آئے ہیں۔
اسی بنا پر انسان کو اپنا نظام الاوقات اس طرح ترتیب دینا چاہیے جس میں کھانے پینے، سونے جاگنے، ملاقاتوں اور جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال سمیت تمام امور ایک نظم اور ترتیب کے ساتھ انجام پائیں۔ بے وقت سونے سے گریز کرنا چاہیے اور رات کی نیند پوری کرنی چاہیے۔ مواصلاتی آلات کو حد درجہ اہمیت دینے کے بجائے صرف ضرورت تک محدود رکھا جائے۔ رات عشائ کی نماز سے پہلے سونے اور عشائ کے بعد لاحاصل گفتگو میں وقت ضائع کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، کیونکہ عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ جس کی نیند عمدہ ہوگی اس کا دن بھی بہترین گزرے گا۔
٭٭٭












