مشرقِ وسطیٰ کی دھرتی ایک بار پھر بارود کی بو اور دھوئیں کے بادلوں میں لپٹ چکی ہے۔ بظاہر سفارت کاری کی میز پر چائے کی پیالیاں مسکرا رہی ہیں لیکن پسِ پردہ جنگی طیاروں کا غصہ اور سمندری لہروں پر منڈلاتی ہوئی بارودی کشتیاں ایک خطرناک کہانی سنا رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے مشرقی علاقوں خصوصاً بقیق کی عظیم الشان نفطی تنصیبات سے اٹھتا ہوا سیاہ دھواں صرف ایک عمارت کی تباہی کی علامت نہیں بلکہ اس عالمی معاشی شریان کے کٹنے کی خبر ہے جس پر پوری دنیا کی صنعت کا انحصار ہے۔ یہ حملہ اس حقیقت کا واشگاف ثبوت ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اب سرحدوں کے پابند دائروں سے نکل کر ہر اس مقام کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جہاں سے رزق اور توانائیاں جنم لیتی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ قطر کی گیس کی تنصیبات پر پڑنے والی ضرب نے ثابت کر دیا ہے کہ اب کوئی بھی مقام محفوظ نہیں۔ جہاں ایک طرف خلیج کی فضائیں بارود سے لبالب ہیں، وہاں دوسری جانب بحیرہ قزوین کی نیلی سطح پر پیش آنے والے واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اس آگ کا دائرہ اثر کس قدر وسیع ہو چکا ہے۔ جب دور دراز جنگوں کے اثرات بحری راستوں پر نمودار ہوتے ہیں اور ایک ملک کے جہاز دوسرے ملک کی حدود میں نشانہ بنتے ہیں تو سفارتی حکمتِ عملی کے تمام پرانے مسودے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ اس تمام تر افراتفری کے درمیان دنیا کے معاشی نقشے پر ایک لرزہ طاری ہے۔ آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری گزرگاہوں کی ناکہ بندی نے عالمی تجارت کے سانس پھلا دیے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل خام تیل کی منتقلی کا رک جانا کسی ایک ملک کی معیشت کا نقصان نہیں بلکہ عالمگیر سطح پر مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی پیشین گوئی ہے۔ امریکی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں سیکنڑوں فیصد کا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی چنگاریاں سات سمندر پار بیٹھے عام شہریوں کے لیے بھی کس قدر خوفناک نتائج لا سکتی ہیں۔ سفارت کاری کا میدان اس وقت سخت انتشار کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف قاہرہ، مسقط اور دوہا کی راہداریوں میں ایلچیوں کی آمد و رفت جاری ہے اور کاغذات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب زمینی حقیقت یہ ہے کہ تمام فریق اپنے اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے طاقت کے زور پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ بیانات کی حد تک امن کی خواہش کا اظہار ہر طرف سے کیا جاتا ہے، لیکن جب بات عملی اقدامات پر آتی ہے تو شرطوں کے پہاڑ کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب ایک فریق معاہدے پر عمل درآمد کی بات کرتا ہے اور دوسرا فریق اپنی فوجی نقل و حرکت کو مضبوط کرنے میں مصروف رہتا ہے تو ایسے میں پائیدار امن کی امید رکھنا محض ایک خام خیالی بن کر رہ جاتا ہے۔ اس پورے ڈرامائی صورتِ حال میں خطے کے دیگر ممالک کا کردار اور ان کا نازک توازن بھی قابلِ غور ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان جیسے ممالک، جو اپنے معاشی مسائل اور ہمسائگی کے نازک تعلقات کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان ایک پْل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، سخت آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف نظریاتی اور دفاعی معاہدات کا پاس رکھنا ہے تو دوسری طرف ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور تارکینِ وطن کی جانب سے آنے والی زرِ مبادلہ کی آمدن میں کمی کا خوف دامن گیر ہے۔ افغانستان کی سرحد پر موجود خدشات اور معاشی ابتری کے ماحول میں سفارتی توازن کو برقرار رکھنا ایک انتہائی مشکل اور باریک کام ہے۔ بات صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہی، بلکہ لبنان اور غزہ کے زخم بھی بدستور رس رہے ہیں۔ جنوب میں بفر زون کی نام نہاد واپسی یا امن کے قائم کردہ خاکے درحقیقت اندرونی طور پر کسی بڑی تباہی کا مقدمہ معلوم ہوتے ہیں۔ جب تک حملوں میں عام شہریوں کے مکانات اور دیہاتوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا اور جب تک بنیادی حقوق سے محروم انسانوں کو صرف امن کی زبانی جمع خرچ سے بہلانے کی کوشش کی جائے گی، تب تک کوئی بھی عارضی جنگ بندی پائیدار ثابت نہیں ہو سکتی۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں میں زندگی آج بھی اتنی ہی تنگ اور خوفناک ہے جتنی جنگ کے سب سے خوفناک دنوں میں تھی۔ عالمی اداروں کی جانب سے پیش کیے جانے والے نقشے اور تجاویز اکثر ان تلخ حقائق کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں جہاں بندوق کی زبان بولنے والے اپنے مفادات سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اب عالمی طاقتوں اور علاقائی رہنماؤں کے سامنے ایک انتہائی مشکل امتحان ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں حتمی فیصلے کے وقت غلط حساب کتاب کیا گیا، اس کا خمیازہ پوری دنیا کو نسلوں تک بھگتنا پڑا۔ آج واشنگٹن، تہران، ریاض، اور اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے مدبرین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک چھوٹے سے غلط قدم سے بھڑکنے والی آگ تمام تر سفارتی کوششوں کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔ امن محض کاغذ کے ٹکڑوں پر دستخط کرنے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے بنیادی تنازعات کی جڑوں تک پہنچ کر انصاف کے اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر اب بھی دانشمندی، تدبر اور حقیقت پسندی سے کام نہ لیا گیا تو جنگ کا یہ دہکتا ہوا تندور نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے روشن مستقبل کو نگل جائے گا بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن و امان کو ایسے اندھیروں میں دھکیل دے گا جہاں سے واپسی کا راستہ شاید کسی کے پاس نہیں ہوگا۔
٭٭٭









