پاکستان میں افواجِ پاکستان کی حمایت اور مخالفت کا ایک نیا کلچر جنم لے چکا ہے، جہاں یہ بحث عام ہو چکی ہے کہ ملک کو موجودہ اندازِ فکر پر گامزن فوج کی ضرورت ہے یا نہیں۔ فوجی پالیسیوں کی مخالفت میں وہ طبقات بھی پیش پیش ہیں جو ماضی میں اسی ادارے کی سرپرستی میں سیاسی طور پر پروان چڑھے اور جنہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کے لیے دہائیاں صرف کی گئیں۔ مولانا فضل الرحمن، جو چند سال قبل اپنے مدرسوں کے طلبا کو اسلام آباد لائے تھے، وہ بھی آج فوجی قیادت پر سخت تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ماضی میں الطاف حسین بھی کھلے عام شدید تنقید کرتے تھے مگر ان کی سیاست کا محور انہی اشاروں پر مبنی رہتا تھا، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ سیاسی قیادت دن بھر تنقید کا نشانہ بنانے کے باوجود شام کو انہی حلقوں سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔
اگر پاکستان کی موجودہ تمام تر سیاسی قیادت پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ نظام دہائیوں کی تربیت کا نتیجہ ہے، جو شہباز شریف، عمران خان اور چوہدری برادران کی صورت میں سامنے نظر آتا ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں ملک میں حقیقی اور خودمختار سیاسی قیادت کا خاتمہ ہو چکا ہے، جو بالآخر انتشار اور خلفشار کا باعث بنا ہے۔ تاہم، عالمی تاریخ میں فوج کا کردار بعض اوقات مختلف مثبت و منفی پہلوؤں کا حامل رہا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں جیسے عراق، لیبیا، شام اور مصر میں نظامی تبدیلیوں کے دوران مختلف طاقتوں اور عسکری تحریکوں نے حکمرانوں اور آمروں کا خاتمہ کیا، جس سے بین الاقوامی سامراجی طاقتوں کے مفادات کو شدید دھچکا پہنچا، مگر بعد میں سازشوں کے ذریعے ان تبدیلیوں کو ناکام بنا کر ان ممالک کو دوبارہ اپنے اثر و رسوخ میں لے لیا گیا۔
پاکستان کے پس منظر میں عسکری مداخلت کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ اس نے ابتدائی دور ہی سے جمہوری اور شہری آزادیوں کو متاثر کیا۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیائ الحق اور جنرل پرویز مشرف کی صورت میں تقریباً چالیس سال تک براہِ راست عسکری حکومت قائم رہی، جبکہ بقیہ دور میں بھی پسِ پردہ اثر و رسوخ غالب رہا۔ اس صورتِ حال کے باعث منتخب صدور اور وزرائے اعظم بے بس اور بے اختیار دکھائی دیتے ہیں، اور بعض اوقات بین الاقوامی امور میں ثالثی کے دوران اعلیٰ حکومتی پروٹوکول بھی پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔
بہرحال، دورِ جدید میں ایک مضبوط عسکری ادارہ رکھنا ہر ریاست کی بقا کے لیے لازم و ملزوم ہو چکا ہے۔ جس طرح کسی گھر کی حفاظت چوکیدار کے بغیر ممکن نہیں ہوتی، اسی طرح دفاعی ادارے کے بغیر ریاست کا وجود برقرار رکھنا دشوار ہے۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ عسکری ادارہ دیگر تمام قومی اداروں کی طرح اپنی آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہ کر کام کرے۔ اگر امریکہ، روس، چین، بھارت، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل جیسے ممالک کا جائزہ لیا جائے تو ان کے پاس عظیم الشان افواج موجود ہیں، مگر ان کے عسکری سربراہان کے نام اور کردار سے عام دنیا ناواقف رہتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستانی عسکری قیادت کا عالمی سطح پر چرچا رہتا ہے اور اکثر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ان کا ذکر سامنے آتا ہے، جس سے ماضی کے سیٹو، سینٹو، افغان امور اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طرح عسکری قوت کے ممکنہ استعمال کے خدشات جنم لیتے ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ موجودہ نازک جغرافیائی اور سیاسی صورتِ حال میں پاکستان کو ایک پیشہ ورانہ دفاعی فوج کی اشد ضرورت ہے جو ریاست کی سرحدوں اور سلامتی کا تحفظ کر سکے۔ اس وقت ملک کے ارد گرد ایسی طاقتیں اور چیلنجز موجود ہیں جو اس کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ اندرونی طور پر بھی سیکورٹی کے سنگین مسائل درپیش ہیں۔ ایسے حالات میں ملک کا انحصار ایک مضبوط اور منظم عسکری ادارے پر ہی ہے، بشرطیکہ اسے تمام تر ضروری مراعات کے ساتھ ساتھ صرف اور صرف آئین اور قانون کی حدود و قیود میں پابند رکھا جائے تاکہ ملک پائیدار ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)










