چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں !!!

0
3

میری امریکی کہانی کا آغاز 1986ء کے اگست کے اسی ہفتے میں ہوا تھا جب ہمارا طیارہ پاکستان کی پاک فضاؤں سے ایک طویل اڑان بھر کر ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ترقی یافتہ دنیا تک آ پہنچا تھا۔ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے حصول کی غرض سے شروع کیے گئے سفر میں شکاگو میرا اولین مسکن بنا۔ وہاں پانچ سال گزارنے کے بعد نیو جرسی کی ریاست کے ایک مکان میں گھر بسایا تو بس وہاں کے ہی ہو کر رہ گئے۔ آج کچھ حساب لگایا تو انکشاف ہوا کہ ہم نے اپنے آبائی وطن پاکستان میں صرف 26 سال ہی گزارے تھے، جبکہ امریکہ میں رہتے ہوئے تو اب ہمیں چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مزید یہ کہ اس چالیس سال کے طویل عرصے میں اس قدر تبدیلیاں دیکھی ہیں کہ علامہ اقبال کا یہ شعر بالکل برمحل لگتا ہے۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
جب ہم شکاگو پہنچے تھے تو وہاں شدید قحط الرجال کا سامنا تھا، جس کے باعث مجھ جیسے دیہاتی طالب علم کو پہلے چند ہفتوں میں ہی یونیورسٹی کی پاکستان اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا خزانچی بنا دیا گیا۔ چند ماہ بعد ہی مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا نائب صدر اور ایک دو سال بعد ہی اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے شکاگو شہر کا صدر منتخب کر لیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ جیسے وسیع و عریض ملک میں پاکستان اور اسلام دونوں اجنبی تھے، اور عام سوسائٹی میں کہیں ہمارا کوئی ذکر ہی نہ تھا؛ یہی وجہ تھی کہ اسلام کے بارے میں لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے وائے اسلام جیسے دعوت کے منصوبے شروع کیے گئے تھے۔ ہماری ان کوششوں کو 9/11 کے واقعے نے بے حد تقویت دی کیونکہ اس سانحے نے امریکیوں میں بڑا تجسس پیدا کر دیا اور یوں ہمارا کام کافی آسان ہو گیا۔
آج کے اگست کے ان دنوں کا تقابل جب چالیس سال پہلے والے اگست سے کرتا ہوں تو یقین ہی نہیں آتا کہ ہماری زندگی میں ہی اتنا سفر طے ہو چکا ہے کہ 1986ئ والا قحط الرجال بالکل ختم ہو کے رہ گیا ہے۔ آج عبدالرحمن السید امریکی سینیٹ کے لیے ایک انتہائی مضبوط امیدوار ہیں، ظہران ممدانی نیویارک کے میئر منتخب ہو چکے ہیں اور کئی درجن دیگر مسلمان امریکہ کی سیاست کی قیادت کر رہے ہیں۔ کئی دہائیوں سے امریکی سیاست پر اسرائیلی اثر و رسوخ کی گہری چھاپ نمایاں رہی ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنی بے پناہ دولت صرف کر کے امریکی رائے عامہ کو متاثر نہیں کر پا رہا۔ غزہ، لبنان اور ایران کے مظلوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم نے عام اور سادہ امریکیوں کے دل چیر کر رکھ دیے ہیں، حتیٰ کہ ٹکر کارلسن، پیئرس مارگن اور جو اسکاربورو جیسے متعصب ٹیلی ویڑن ہوسٹ بھی اب اسرائیلی حکومت اور صیہونیت کے خلاف غزہ کے معصوم بچوں کے لیے زوردار آوازیں بلند کر رہے ہیں۔ امریکہ کے معروف ذرائع ابلاغ کی بے بسی دیکھیے کہ انہیں عبدالرحمن السید اور ظہران ممدانی جیسے مسلمان رہنماؤں کے انٹرویو پرائم ٹائم میں نشر کرنے پڑ رہے ہیں۔ جگر کے بقول
ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری
کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی
ہمارے لیے اپنے پیارے ملک پاکستان سے دور امریکہ کے پردیس میں یہ چالیس سال گزارنا کوئی آسان کام نہیں رہا۔ خاص طور پر شروع کے دن تو بہت ہی مشکل تھے، اور بس ایک ہی احساس تھا کہ ہم جیسے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے وقت کے فرعون کے گھر کسی خاص مقصد کے تحت پہنچا دیا ہے۔ سوچتے تھے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ سپر پاور ملک اگر دائرہ اسلام میں آ گیا تو پوری دنیا کی تقدیر بدل جائے گی۔ مسلم کمیونٹی نے پہلے تو بہت سارا وقت عام سوسائٹی سے علیحدگی اور تنہائی میں گزارا، لیکن اب ہماری نئی نسلیں اسی ملک امریکہ کو اپنا وطن سمجھ کر مقامی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے اس سرزمین کی بہتری میں مصروف ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ان کی حفاظت فرمائے اور یہ اپنے نیک مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوں۔ کسی اچھے شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ
جو ظلمتوں کا نظام بدلے، جو روشنی بے حساب کردے
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا، وطن جو میرا نہال کر دے

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here