کرائے کا گھر!!!

0
3

قرآن کہتا ہے کہ غْرْورِ اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ کرائے کے گھر کی طرح کیا دنیا کو اپنا کہہ سکتے ہیں؟ اور بالفرض کہہ بھی دیں تو کیا وہ ہماری ملکیت بن جائے گی؟ نہیں،
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
دنیا میں موجود ہر چیز، جائیدادیں، دولت، عزتیں، مقام، رشتے، جذبے، خوشیاں اور غم، سب متاع الغرور ہیں۔
ایک عام رویہ ہے کہ کرائے کے گھر میں رہنے والے لوگ گھر کی نہ تو اس طرح سے حفاظت کرتے ہیں اور نہ ہی اس گھر سے انہیں پیار ہوتا ہے۔ وہ اس گھر میں رہتے تو ہیں لیکن خواب دیکھتے ہیں، پلان کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں، جوڑتے رہتے ہیں اپنے اپنا گھر بنانے کے لیے۔ کبھی کوئی کرائے کے گھر کے بارے میں لمبی چوڑی پلاننگ نہیں کرتا، اس سے محبت نہیں کرتا، اس گھر کی صفائی اور ہلکی پھلکی ضرورت کی دیکھ بھال کے سوا اسے وقت اور توجہ نہیں دیتا۔ کرائے کا گھر ان کی ملکیت نہیں۔
آئیں، دنیا کو اس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ہم نے کچھ عرصہ یہاں گزارنا ہے اور پھر اس طرح سے جانا ہے کہ ساتھ کچھ نہیں لے کر جا سکتے۔ کیوں؟ اس سفر پر یہاں سے کچھ لے کر جانے والا ہے ہی نہیں۔ ہم سے پہلے بھی لوگ آتے رہے اور ایک خاص وقت تک اسے استعمال کر کے چھوڑ کے جاتے رہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہونا ہے تو پھر پرائی چیز پر اتنی پریشانی کی کیا ضرورت ہے؟ پھر اپنے پائیدار گھر بنانے کی طرف توجہ کیوں نہیں؟ وہ گھر جس کے بارے میں اللہ بار بار کہتا ہے ،اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس کرائے کے گھر کو اتنی ہی توجہ دیں کہ یہ رہنے کے قابل رہے۔ لیکن اپنے گھر کے لیے سوچیں، محنت کریں، جوڑیں تاکہ ہمیشہ کے لیے ایک بہترین گھر میں رہنے کا بندوبست ہو سکے۔ ایک بات اور، جنت میں جاتے وقت اللہ کے سامنے میرا نام بھی یاد رکھیے گا۔
لاء حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here