خاموش خودکشی!!!

0
3
ماجد جرال
ماجد جرال

اسلام آباد میں ایک سیکیورٹی گارڈ اپنی ہی بندوق کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ کہا جا رہا ہے کہ گولی بے خیالی میں چل گئی۔ مگر کبھی کبھی بے خیالی کے پیچھے بھی ایک پوری کہانی چھپی ہوتی ہے۔ شاید وہ ڈیوٹی کے دوران اپنی بندوق پر سر رکھے کسی گہری سوچ میں گم تھا، تھکا ہارا جسم، پریشان ذہن اور زندگی کے مسائل کا بوجھ ساتھ لیے ہوئے تھا۔ شاید چند لمحوں کے لیے اس نے بندوق کو سہارا بنایا، اپنا سر اس پر ٹکایا اور کسی ایسی فکر میں کھو گیا جہاں اسے اپنے ہاتھ میں موجود ہتھیار بھی یاد نہ رہا، اور پھر اچانک بندوق چل گئی۔جس بندوق کو اس نے سر رکھنے کا سہارا بنایا تھا، وہی اس کی موت کا سبب بن گئی۔ جس سہارے پر وہ سر رکھ کر اپنے مسائل کے بارے میں سوچ رہا تھا، اسی سہارے نے نا جانے کتنے لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے سہارا کر دیا۔ یہ صرف ایک گارڈ کی موت نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے اس غریب آدمی کی کہانی ہے جسے کبھی بے روزگاری، کبھی چند ہزار روپے کی ماہانہ تنخواہ، کبھی ادھار، اور کبھی کوئی گھریلو مجبوری آہستہ آہستہ کمزور کرتی جا رہی ہے۔
وہ گارڈ بھی شاید کسی بڑے خیال میں ڈوبا ہوا تھا، شاید بچوں کی فیس دینی تھی، گھر کا کرایہ ادا کرنا تھا، راشن خریدنا تھا، یا بجلی کا بل دینا تھا۔ وہ سوچ رہا ہوگا کہ اتنی محدود تنخواہ میں مہینے کے باقی دن کیسے گزریں گے۔ حکومت کے لیے شاید یہ محض ایک حادثہ ہے۔ ایک خبر آئے گی، چند گھنٹے زیرِ بحث رہے گی اور پھر اگلی خبر اسے ڈھانپ دے گی۔ لیکن اس کے گھر میں یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک قیامت ہے۔
ایک گھر کا کفیل چلا گیا، ایک عورت بیوہ ہوگئی، بچے باپ کے سائے سے محروم ہوگئے، اور اس خاندان کے معاشی مسائل، جو پہلے ہی اس شخص کے کندھوں پر تھے، اب کئی گنا بڑھ گئے۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ بندوق کیسے چلی، بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ وہ آدمی کن حالات میں اس قدر ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار تھا کہ ڈیوٹی کے دوران بندوق پر سر رکھ کر بیٹھ گیا۔پاکستان کی حکومتیں معاشی ترقی کے اعداد و شمار سناتی ہیں، بجٹ میں ترقی کے دعوے ہوتے ہیں، اور معیشت مستحکم ہونے کی خبریں آتی ہیں۔ مگر ملک کی اصل معیشت کا اندازہ ایوانِ اقتدار کی تقریروں سے نہیں، بلکہ ایسے عام لوگوں کی زندگی سے ہونا چاہیے۔ اس گارڈ کے گھر جا کر پوچھا جائے کہ مہنگائی نے انہیں کیا دیا، اس کے بچوں سے پوچھا جائے کہ باپ کے بغیر زندگی کیسے گزرے گی، اور اس کی بیوہ سے پوچھا جائے کہ اب گھر کا خرچ کون چلائے گا۔
تب شاید معلوم ہو کہ معاشی ترقی کے بڑے بڑے دعووں کے نیچے ایک ایسا پاکستان بھی سانس لے رہا ہے جہاں ایک غریب آدمی اپنی ڈیوٹی کے دوران بندوق پر سر رکھ کر چند لمحے سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور وہی بندوق اس کی زندگی چھین لیتی ہے۔ وہ شاید کسی گہری سوچ میں تھا، ہمیں نہیں معلوم وہ کیا سوچ رہا تھا، مگر اب وہ کبھی نہیں بتا سکے گا، اور شاید یہی اس واقعے کا سب سے المناک پہلو ہے۔
وہ بندوق پر سر رکھ کر کسی مسئلے کا حل سوچ رہا تھا، مگر بندوق نے خود اس کی زندگی کا باب ختم کر دیا۔ اس کے ساتھ صرف ایک آدمی نہیں مرا، بلکہ اس کے بچوں کا مستقبل بھی زخمی ہوا ہے اور اس کے گھر کا سہارا ٹوٹ گیا ہے۔ اب ایک اور غریب خاندان ریاست سے وہ سوال پوچھ رہا ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں کہ آخر اس ملک میں غریب آدمی کب تک اپنے ہی سہاروں کے نیچے دبا رہے گا، اور خدا جانے ایسی خاموش خودکشیوں کا سلسلہ کب روکے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here