امریکہ کا ناقابل تسخیر فوجی رعب و دبدبہ خاک میں مل گیا!!

0
3

امریکہ کا ناقابل تسخیر فوجی رعب و دبدبہ خاک میں مل گیا!!!

تعارف: رابرٹ اے پیپ شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اور شکاگو پروجیکٹ آن سیکیورٹی اینڈ تھریٹس کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ بمبنگ ٹو ون: ایئر پاور اینڈ کوئرسن ان وار کے مصنف بھی ہیں۔ان کی تازہ ترین کتابچے سے اخذ کردہ تحریرپاکستان نیوز کے قارئین کے پیش نظر ہے۔

امریکہ اور مغرب کا وہ ناقابل تسخیر فوجی رعب و دبدبہ جس نے بیسویں صدی کے اختتام پر پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا، اب تاریخ کے ایک دھندلے باب میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خلیج فارس کی لہروں، لال سمندر کے گزرگاہوں اور مشرق وسطیٰ کی جلتی ہوئی فضائیں اس سچائی کی گواہی دے رہی ہیں کہ عالمی طاقت کے نئے اصول وضع ہو چکے ہیں۔ ان نئے اصولوں کی بنیاد میں محض بحری بیڑوں کی کثرت، دفاعی بجٹ کا حجم یا ایٹمی ہتھیاروں کے انبار شامل نہیں ہیں، بلکہ اس کی اصل وجہ جدید تکنیک کا وہ تیزی سے عام ہونا ہے جس نے چھوٹی اور نسبتاً کمزور ریاستوں کو بھی عالمی طاقتوں کی چولی دہی کا موثر ذریعہ فراہم کر دیا ہے۔ اس زبردست تبدیلی نے ناصرف امریکی نظام کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ طاقت کے اس زعم کو بھی چکنا چور کر دیا ہے جو دہائیوں سے مغرب کے ایوانوں پر غالب تھا۔
1991ء میں جب خلیج کی پہلی جنگ لڑی گئی تو اس وقت کا عالمی منظرنامہ بالکل مختلف تھا۔ امریکہ نے چند دنوں میں عراق کی دسویں بڑی فوج کو تاراج کر کے پوری دنیا پر اپنی عسکری برتری کا سکہ جما دیا تھا۔ اس فتح کے بعد یہ باور کرایا گیا کہ آئندہ دہائیوں میں کوئی بھی علاقائی طاقت واشنگٹن کی خواہش اور مرضی کے سامنے کھڑے ہونے کی سکت نہیں رکھتی۔ لیکن تاریخ کی ایک سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ طاقت کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ تین دہائیوں بعد آج کا سچ یہ ہے کہ کم قیمت ٹیکنالوجی، ڈرون طیاروں اور درمیانے فاصلے تک مار کرنیوالے درست نشانے والے میزائلوں کے دور نے اس قدیم دفاعی نظرئیے کو یکسر منسوخ کر دیا ہے۔ اب ایک طاقتور ترین اور اربوں ڈالر مالیت کے حامل جنگی بحری جہاز کو تباہ کرنے یا کم از کم مفلوج بنانے کے لیے محض چند ہزار ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ ڈرون ہی کافی ہے۔
تہران اور اس کے اتحادیوں نے اس نئی تکنیکی حقیقت کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ واشنگٹن سے روایتی فضائی یا بحری جنگ میں ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتے، لہٰذا انہوں نے متوازی اور غیر متوازن دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ اس حکمت عملی کا سب سے بڑا مرکز یہ تھا کہ کس طرح اپنے حریف کو اس کی اپنی جیو پولیٹیکل طاقت کے زعم سے محروم کیا جائے اور اس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا جائے۔ عالمی تجارت کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں، بالخصوص آبنائے ہرمز اور لال سمندر پر ایرانی اثر و رسوخ نے امریکہ اور اس کے حلیفوں کے لیے ایک بہت بڑا دفاعی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ تیل کی رسد اور عالمی معیشت کے بنیادی دھارے پر اس قسم کے غیر متوازن حملوں کی صلاحیت نے طاقت کا توازن ان معنوں میں بدل دیا ہے کہ اب بڑی طاقتیں بھی حملے کی قیمت چکانے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہیں۔
ماضی میں امریکی فوجی پالیسی کا سب سے بڑا ہتھیار یہ رہا ہے کہ حریف ممالک پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں اور ان کے خلاف فضائی بمباری کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کے حالات پیدا کیے جائیں۔ تاہم، مشرق وسطیٰ کا حالیہ بحران اور ایران کے گرد گھومتی صورت حال اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ غیر ملکی بمباری یا دباؤ کبھی بھی کسی ملک کے اندرونی سیاسی ڈھانچے کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس یہ بیرونی خطرے کے سامنے عوامی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو جنم دیتا ہے۔ جب جب امریکہ نے اس خطے میں طاقت کا کھل کر مظاہرہ کیا ہے، اس کے نتیجے میں امن و استحکام کی بجائے بے یقینی اور اقتصادی بدحالی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
اس پورے منظرنامے کا سب سے اہم اور دردناک پہلو عالمی معیشت کی نازک نوعیت ہے۔ مغربی طاقتوں کی فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں جب سمندری نقل و حمل غیر محفوظ ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی مالیاتی منڈیوں، انشورنس کی شرحوں اور خام تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ یہ صورت حال صرف مشرق وسطیٰ کے لیے نقصان دہ نہیں ہے بلکہ اس سے دنیا کا ہر وہ ملک متاثر ہوتا ہے جو ان گزرگاہوں کے ذریعے تجارت پر انحصار کرتا ہے۔ اس تناظر میں امریکہ کا بحری چوہدری کا روایتی کردار اب مزید کارآمد نہیں رہا۔ جن خطوں میں کل تک امریکہ کی موجودگی کو سلامتی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، آج وہی موجودگی اشتعال انگیزی اور مزید تصادم کا باعث بن رہی ہے۔
دنیا اب ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں فوجی بجٹ کا سائز کسی ملک کے جیو پولیٹیکل فتح کی ضمانت نہیں دیتا۔ طاقت کی نئی تعریف اب عدم استحکام پیدا کرنے، تجارتی راستوں کو مسدود کرنے اور انتہائی کم لاگت میں حریف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی صلاحیتوں سے وابستہ ہے۔ ایران اور دیگر درمیانی درجے کی ریاستوں نے اس حقیقت کو اپنا کر عالمی طاقت کے ان پرانے قوانین کو ختم کر دیا ہے جن کی بنیاد پر امریکی تسلط قائم تھا۔ آنے والے برسوں میں جو سپر پاورز اس بدلے ہوئے حقیقت پسندانہ عالمی نقشے کو تسلیم کرنے سے انکار کریں گی، وہ مسلسل زوال، ناپائیدار حکمت عملیوں اور لامتناہی معاشی نقصانات کی دلدل میں دبنستی چلی جائیں گی۔ طاقت کا یہ نیا دور کسی ایک اجارہ دار کے وجود کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کرتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here