جوںجوں وقت گزر رہا ہے صدر ٹرمپ اپنے الیکشن سے پہلے کیے گئے وعدوں کو بھول کر اول فول بول رہے ہیں اور امریکی ان کی زبان سے تپنے لگے ہیں۔ وہ جس کو چاہیں نازیبا الفاظ کہہ دیتے ہیں، جس کا چاہیں نام بگاڑ دیتے ہیں اور جھوٹی الزام تراشی کر دیتے ہیں۔ یہ ان کی دوسری اور آخری ٹرم ہے اور یہ ممکن ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن کے فوراً بعد جب ڈیموکریٹس کی سینیٹ اور کانگریس میں تعداد ریپبلکن سے زیادہ ہو جائے گی تو ان کے خلاف بل پاس کیا جائے گا تاکہ ان کا مواخذہ کیا جا سکے۔ لیکن دوسری جانب AIPAC یعنی یہودی لابی کا کردار سامنے آتا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی پے در پے نالائقیوں کے باوجود خاموش ہیں۔ وہ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں، یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اپنے مخالف کو ذلیل کرنے کا، لیکن ہر کوئی صدر کی اس زبان درازی کی وجہ سے انہیں ہی ذلیل سمجھتا ہے۔ پہلے انہوں نے ان دو مسلمان خواتین کا ذکر کیا جن کو وہ ہر طرح سے برا بھلا کہہ چکے ہیں، اور منی پولس کی الہان عمر نے بھی انہیں جواب دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پچھلے ہفتے مشی گن میں ڈیموکریٹک پرائمری کے دوران ایک ذہین نوجوان ڈاکٹر عبدالالسعید کا مقابلہ کرنے والی خاتون ہیلی اسٹیونس کو AIPAC کی مدد سے 60 سے 70 ملین ڈالر خرچ کرنے پر بھی شکست ہو گئی، تو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی کرسی سنبھالی اور پہلے ڈاکٹر عبدالالسعید کے نام کا مذاق اڑایا اور پھر اپنی بازاری زبان میں نازیبا الفاظ کہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے شہر میں کسی جاہل شخص کے منہ سے گالیاں سن رہے ہوں۔
صدر ٹرمپ کبھی کسی بات پر قائم نہیں رہتے۔ اگر آپ پچھلے ایک سال اور ساڑھے چھ ماہ میں ان کی زبان، وعدوں اور حرکات پر نظر ڈالیں تو آپ کے سامنے صدر آئزن ہاور اور صدر کلنٹن کی یادیں تازہ ہو جائیں گی جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ کیا اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ گزشتہ دنوں سابقہ صدر اوبامہ نے بھی ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کھری کھری سنا ڈالیں۔ 1962 کے بعد سے اب تک جتنے صدور ہم نے دیکھے اور سنے ہیں، ان میں صدر ٹرمپ ایک مذاق بنتے جا رہے ہیں۔ کیا وہ واقعی ایسے ہیں یا پھر نیتن یاہو یا ایپسٹین کی صحبت میں رہ کر ایسے ہو گئے ہیں کہ یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ دوبارہ صدر بننے کے بعد وہ آخر کیا چاہتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو یہ بات انہیں خود بھی معلوم نہیں ہے، جیسے ان کے پیچھے کھڑا کوئی ملک دشمن انہیں کٹھ پتلی کی طرح نچا رہا ہو۔ آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ امریکہ کا صدر ایک میئر کے خلاف اتنی گری ہوئی زبان استعمال کرے اور آنے والے پہلے مسلم سینیٹر کو اول فول سے نوازے۔
ڈاکٹر عبدالسعید نے اپنے الیکشن لڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وہ خود ایک ڈاکٹر ہیں، اس لیے اگلا الیکشن ہیلتھ کیئر کے مسئلے پر مرکوز ہوگا، کیونکہ اس وقت ہیلتھ کیئر کی صورتحال بے حد تشویشناک ہو چکی ہے۔ تمام امریکی اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ آئندہ کیا ہوگا۔ امریکہ میں روز بروز دو بڑے مسائل کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، جن میں پہلے نمبر پر ہیلتھ کیئر اور دوسرے نمبر پر مہنگائی ہے۔ اس مہنگائی کے پیچھے سچائی کا کوئی عنصر دکھائی نہیں دیتا۔ مثال کے طور پر، جب 2008 میں فی بیرل کروڈ آئل کی قیمت 147 ڈالر تھی تو فی گیلن آئل 3.80 ڈالر تھا، لیکن آج جب فی بیرل کروڈ آئل کی قیمت 78 سے 84 ڈالر کے درمیان ہے تو نیویارک سے شکاگو تک ایک گیلن کی قیمت 4.15 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ حال ہی میں ایکسون کا منافع 14.5 بلین ڈالر اور شیوران کا منافع 12 بلین ڈالر ہو چکا ہے، جبکہ شیل کمپنی 10 بلین ڈالر کے قریب منافع کما چکی ہے۔
ان تمام معاشی صورتحال اور مسائل پر صدر ٹرمپ کا دھیان بالکل نہیں ہے، یا پھر ان کے پاس اکبر بادشاہ کے نورتنوں کی طرح کوئی ایسا مشیر نہیں جو انہیں مشورہ دے سکے کہ صدر صاحب کچھ اقدامات کریں۔ صدر کی کابینہ میں اعلیٰ صلاحیت کے حامل افراد کے بجائے ایسے لوگ موجود ہیں جو صرف ان کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنا ذاتی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
جب کورٹ میں صدر ٹرمپ نے یہ کہا کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں، تو جج نے کورٹ برخاست کر کے دوبارہ حاضری کے وقت واضح کیا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے کئی مواقع پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ قانون کو اہمیت نہیں دیتے اور انہوں نے متعدد بار قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ وہ بے شمار مرتبہ دیوالیہ پن کا شکار ہو چکے ہیں، اور ہر بڑے شہر میں ٹرمپ پلازہ یا ٹرمپ بلڈنگز قائم ہیں۔ الیکشن کے دوران جو عہدیدار ان کے قریب تھے، اب وہ بھی ان سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ صدر کو ایسے لوگوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی امریکی صدر اتنا زوال پذیر نہیں ہوا تھا کہ وہ چھوٹے ملکوں کو دھمکیاں دے کر یا ڈرا دھمکا کر دولت جمع کرتا رہے۔ حد تو یہ ہے کہ بوئنگ 747 جیسے طیاروں میں سفر پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے ایسی غیر سنجیدہ باتیں اور ہیرا پھیری کی خبریں سامنے آتی ہیں جن سے عوام کا دل برداشتہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی اور اپنے اہلیہ کی تصویر کے ساتھ ڈاکٹر عبدالالسعید اور ان کی بیوی کی حجاب میں ملبوس تصویر شائع کی اور نیچے تحریر کیا کہ دو مختلف امریکہ۔















