یوم آزادی!!!

0
3
شبیر گُل

پاکستان کی تاریخ اور موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ چودہ اگست 1947 کو جب برطانوی راج کا خاتمہ ہوا، تو ملکی واگ ڈور ایسے طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی جنہوں نے نوآبادیاتی نظام ہی کی پاسداری کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اقتدار پر قابض ہونے والے حکمران طبقے نے عوام کو حقیقی آزادی سے محروم رکھا۔ ایوب خان کے دور میں جمہوریت کو نقصان پہنچا، یحییٰ خان کے عہد میں ملک دو لخت ہوا، اور بعد کے ادوار میں بھی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور ناانصافی کا سلسلہ جاری رہا۔ ملک کی سا لمیت، انصاف اور حقوق کی بات کرنے والوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، جبکہ مہنگائی اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر منفی لیبل لگائے گئے۔
آج ملک ایک بار پھر شدید بحران کی زد میں ہے۔ عوام مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، اور ناانصافی کی قید میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آزادی کے حقیقی ثمرات غریب عوام تک پہنچنے کے بجائے اقتدار پسند طبقات کی ترجیحات کی نذر ہو چکے ہیں۔ ایک طرف ملک کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا تو دوسری طرف کرپشن، ملاوٹ اور بددیانتی کا دور دورہ ہے۔ تیل، سونے، تانبے اور گیس جیسے قدرتی وسائل کی موجودگی کی خوشخبریاں تو سنائی جاتی ہیں، لیکن ان کی آمدنی کے اثرات عوام کی زندگیوں پر نظر نہیں آتے۔ عوام آئی ایم ایف کے بھاری قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور کشمیر میں ناانصافی اور حقوق کی عدم فراہمی کے باعث بے چینی بڑھ رہی ہے۔ حق بات کرنے پر آوازوں کو دبایا جائے تو نوجوانوں میں مایوسی اور بغاوت کا عنصر پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔سیاسی میدان کی بات کی جائے تو تمام نمایاں جماعتیں اور ان کی قیادتیں اپنے اپنے مفادات کے حصول میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ حاکم وقت نواز شریف اور مریم نواز کی حکومت میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال اور شخصیت پرستی عروج پر ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم نے بھی اپنے سیاسی مفادات کے لیے مسلسل سمجھوتے کیے ہیں، جس کے باعث کراچی کے بنیادی مسائل، مہنگائی اور بجلی و گیس کے اضافی چارجز جیسے اہم امور کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ فضل الرحمن کی سیاست کا انداز بھی ہمیشہ مفاہمت اور اپنے فائدے تک محدود رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف یعنی پی ٹی آئی کی کارکردگی اور طرزِ سیاست پر بھی سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں ان کی کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آئی ہیں اور ان کی قیادت بھی پسِ پردہ اسٹیبلشمنٹ اور دیگر جماعتوں سے رابطوں میں رہتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل بی جے پی یا ایم کیو ایم کے فاشسٹ رویوں کی یاد دلاتا ہے، جہاں دلیل کے بجائے گالم گلوچ اور الزام تراشی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی جیسی تعمیری اور پرامن سیاست کرنے والی جماعت کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ جماعت اسلامی کے دھرنوں اور جلسوں میں عوام کا بڑا جم غفیر بغیر کسی توڑ پھوڑ یا نقصان کے شامل ہوتا ہے۔
اس وقت تمام روایتی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں، جہاں اقتدار کا توازن کبھی ایک جماعت کے حق میں اور کبھی دوسری کے حق میں جھکا دیا جاتا ہے۔ کراچی اور سندھ کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سیاسی و عسکری گٹھ جوڑ کا خاتمہ نہ ہو، اور خیبر پختونخواہ میں امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک بلیک میلنگ کی سیاست ختم نہ ہو۔ ملکی ترقی موجودہ گلا سڑا سسٹم اور قابض چوروں کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔ عوام کو اپنی تقدیر بدلنے کے لیے ظالم مافیا کے خلاف خود حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here