چودہ اگست، ایک خواب، ایک نسبت، ایک سوال!!!

0
3

چودہ اگست صرف کیلنڈر پر ثبت ایک تاریخ نہیں بلکہ قوم کے وجود اور روح میں بسی ایک زندہ حقیقت ہے۔ یہ پاکستان کی آزادی اور ایک قوم کے عظیم خواب کی تعبیر کا دن ہے۔ میرے والدین کے لیے یہ دن ذاتی مسرت کا باعث بھی بنا کیونکہ 14 اگست میری سالگرہ کا دن بھی ہے، اگرچہ سال میں کئی دہائیوں کا تفاوت ہے۔ ہر برس 14 اگست میری زندگی میں ایک نئی صبح کا پیغام لانے کے ساتھ وطن عزیز کی آزادی کی یاد دہانی بھی بن جاتا ہے۔
بچپن میں پشاور کینٹ کی فضاؤں میں چودہ اگست کی آمد کا احساس ہی منفرد ہوتا تھا۔ سبز و سفید جھنڈیوں سے آراستہ گلیاں، بچوں کے ہاتھوں میں لہراتے پرچم، عمارتوں پر بلند ہوتا سبز ہلالی پرچم اور ریڈیو و ٹی وی پر گونجتے ملی نغمے، یہ تمام مناظر مل کر اک ایسا سحر طاری کرتے تھے جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔ ریڈیو کی نشریات اس جشن کا لازمی حصہ ہوتی تھیں جہاں ملی نغمے، جدوجہد کی داستانیں اور قومی رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے پروگرام دلوں میں حب وطنی کا جذبہ مزید گہرا کر دیتے تھے۔
پاکستان محض جغرافیائی حدود کا نام نہیں بلکہ یہ ان لاکھوں نفوس کی لازوال داستان ہے جنہوں نے ہجرت کا کرب سہا، اپنے پیاروں کی جدائی برداشت کی اور ایک روشن مستقبل کی امید میں اپنے آشیانے چھوڑ دیے۔ یہ سفر صرف سامان کا سفر نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے اک مقدس خواب کارفرما تھا، ایک ایسا وطن جہاں حریت، وقار، خودداری اور مذہبی آزادی میسر ہو۔ قیام پاکستان اسی خواب کی تعبیر تھا جو ان گنت قربانیوں کے بعد ممکن ہوا۔ اجڑتے گھر، خون سے تر بتر راہیں اور مستقبل کے دھندلے خواب ہماری تاریخ کی بنیاد ہیں۔ اس لیے 14 August محض جشن منانے کی تاریخ نہیں بلکہ شکر گزاری، تجدید عہد اور احتساب نفس کا موقع ہے۔
آج جب پرچم لہرائے جاتے ہیں، گلی محلوں کو آراستہ کیا جاتا ہے اور ملی نغموں سے فضا گونجتی ہے تو اک لمحے کے لیے یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ہم نے اس عظیم خواب کے ساتھ واقعی انصاف کیا ہے۔ آزادی محض روایتی جشن کا نام نہیں بلکہ اک سنگین ذمہ داری ہے۔ قانون کی پاسداری، دیانت داری، شائستگی، میرٹ کی بالادستی، تعلیم کا فروغ اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام ہی وہ بنیادیں ہیں جو کسی بھی قوم کی آزادی کو پائیدار بناتی ہیں۔
کوئی بھی ملک صرف سرحدی تحفظ سے محفوظ نہیں رہتا بلکہ قوم کا کردار اور اس کی اخلاقی قدریں اس کی حقیقی ڈھال ہوتی ہیں۔ قومیں محض نعروں سے نہیں بنتی بلکہ شہریوں کے طرز عمل، اداروں کی شفافیت اور نوجوان نسل کے پختہ عزم سے وجود میں آتی ہیں۔ چودہ اگست ہمیں جہاں ایک عظیم خواب یاد دلاتا ہے وہیں ہمارے سامنے یہ سوال بھی رکھتا ہے کہ ہم اس خواب کو سنوارنے کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب نعروں کے بجائے عمل اور کردار سے دینا ہوگا۔ پاکستان زندہ باد۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here